- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
حضورﷺ کے چچا
حضرت عباس کی زندگی سے چند صفحات
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ
سیدنا حضرت
عمر فاروق کے
عہد خلافت (۱۸
ہجری) میں ایک مرتبہ
طویل خشک سالی نے
اہل عرب پر
قیامت ڈھا دی اور
وہ شدید قحط
کی لپیٹ میں
آگئے۔ امیر المومنین نے لوگوں
کے مصائب و
آلام کم کرنے
کے لیے جو
بھی انسانی تدبیر
ممکن تھی اختیار کی
لیکن بارانِ رحمت کے
بغیر لوگوں کے مصائب
ختم ہوتے نظر
نہیں آتے تھے۔ چنانچہ
ایک دن حضرت
عمر فاروق دوسرے لوگوں کو
ساتھ لے کر
نماز استسقا کے لیے
مدینہ منورہ سے باہر
تشریف لے گئے۔
مجمع میں ایک گورے
چٹے حسین و
جمیل، بلند و بالا
سفید ریش بزرگ بھی
تھے۔ حضرت عمر فاروق نے
ان سے
مخاطب ہو
کر فرمایا: رسول
اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی حیات
طیبہ میں ہم حضور
سلیم کے توسل
سے بارش کی
دعا کیا کرتے
تھے۔ اب آپ
کے وسیلہ سے
بارگاہ
میں بارش
کی استدعا کرتے۔“یہ سن
کر وہ بزرگ
منبر پر تشریف
فرما ہوئے دست دعا
اٹھائے اور نہایت عجز
والحاح اور خشوع و
خضوع کے ساتھ
بارگاہ رب العزت
میں بارش کے
لیے التجا.
کی۔ تمام
حاضرین نے بھی
ان کا ساتھ
دیا۔ ابھی وہ دعا
مانگ کر فارغ
بھی نہیں ہوئے
تھے کہ ایکا
ایک صاف شفاف
آسمان پر سیاہ
بادل چھا گئے اور
اس قدر بارش
ہوئی کہ جل
تھل ایک ہو
گئے ۔ یہ
بارش صحیح معنوں میں
باران رحمت تھی اس
لیے لوگ بار
بار اللہ تعالیٰ
کا شکر ادا
کرتے تھے اور ان
بزرگ کے ہاتھ
پاؤں چوم چوم کر
کہتے تھے ساقی حرمین مبارک
ہو۔ نورانی صورت
کے یہ مستجاب
الدعوات بزرگ جن کو
اہل مدینہ نے
ساقی حرمین
کا خطاب
دیا سید نا
حضرت عباس بن عبد
المطلب تھے۔
حضرت ابو الفضل عباس بن عبد المطلب کے حسب و نسب کے بارے میں اتنا ہی لکھ دینا کافی ہے کہ وہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ حضور کے والد ماجد جناب عبد الله بن عبد المطلب حضرت عباس دی کے علاتی بھائی تھے اور ان سے عمر میں تقریباً بائیس برس بڑے تھے۔ حضور صلی ﷺ کی ولادت با سعادت سے کچھ مدت پہلے انہوں نے وفات پائی تو اس وقت حضرت عباس لی کی عمر اڑھائی تین برس کی تھی ۔ گویا وہ حضور علی ایم سے تقریباً تین برس پہلے پیدا ہوئے تھے۔
حضرت عباس
کی والدہ کا
نام نیلہ تھا۔ علامہ ابن
اثیر میں نے اسد
الغابہ“ میں لکھا
ہے کہ عہد
طفلی میں حضرت عباس
بھی ایک مرتبہ
گم ہو گئے
تھے۔ نیلہ نے نذر
مانی کہ اگر
میرا گم گشتہ
فرزند مل گیا
تو خانہ کعبہ
پر دیبا و
حریر کا غلاف
چڑھاؤں گی۔ خوش قسمتی
سے حضرت عباس
بالکل صحیح و سالم
مل گئے۔ چنانچہ
ان کی والدہ
نے بڑی دھوم
دھام سے اپنی
منت پوری کی۔
کہا جاتا ہے
کہ وہ پہلی
عرب خاتون ہیں
جنہوں نے زمانہ
جاہلیت میں خانہ کعبہ
پر
دیبا و
حریر کا غلاف
چڑھایا۔
وہ ایک کامیاب تاجر تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ یمن اور بعض دوسرے علاقوں میں کپڑے کی تجارت کرتے تھے طائف میں ان کا ایک باغ بھی تھا۔ وہ اپنے سوتیلے بھائی جناب ابو طالب بن عبد المطلب سے زیادہ خوشحال تھے۔ ابن اثیر ہی کا بیان ہے کہ حضرت عباس کو خانہ کعبہ کا انتظام و انصرام اور سقایہ کا عہدہ اپنے والد جناب عبد المطلب سے ورثہ میں ملا تھا
زمانہ جاہلیت
میں حضرت عباس کا
شمار قریش کے سر
بر آوردہ رؤسا
میں
میں تفویض
کیا تھا بہر صورت حضرت
عباس زمانہ
جاہلیت کی نہایت
ممتاز شخصیت تھے۔ ایک
وایت میں یہ بھی
آیا ہے کہ
قریش مکہ نے انہیں
”ذوالرائی“ کا خطاب
دے رکھا تھا
اور تمام اہم
معاملات میں ان سے
مشورہ کیا کرتے تھے۔
حضرت عباس طبعا
بڑے فیاض اور
کنبہ پرور تھے۔ انہوں
نے بنو ہاشم
کے تمام مسکینوں
محتاجوں اور بے کسوں
کے لیے روٹی،
کپڑا اور دوسری ضروریات
کی فراہمی اپنے
ذمہ رکھی تھی
اور ان
کے دستر خوان
پر بیسیوں نادار
اور محتاج پرورش
پاتے تھے۔
سرور عالم
صلی اللہ علیہ
وسلم نے دعوت
حق کا آغاز
فرمایا تو جن
سعید روحوں نے اس
پر لبیک کہنے
میں سبقت کی
ان میں حضرت
عباس کی اہلیہ
حضرت ام الفضل بنت حارث بھی
تھیں۔ بعض روایات مطابق
ام المومنین حضرت
خدیجتہ الکبری کے بعد
وہ دوسری خاتون
تھیں جو سعادت
اندوز ایمان ہوئیں۔ خود
حضرت عباس ہی نے
کھلم کھلا قبول اسلام
کا اظہار نہ کیا
لیکن مشرکین قریش کے
مقابلے میں انہوں نے حضور سلام کی حفاظت اور معاونت میں کوئی دقیقہ
فروگزاشت نہ کیا۔ معتبر روایات کی رو سے حضرت عباس نے فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے اپنے اسلام کا اعلان
کیا اور اسی موقع پر ہجرت إلی المدینہ کا شرف بھی حاصل کیا۔ لیکن بعض ارباب سیر نے
یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ حضرت عباس ہی بعثت نبوی کے اوائل ہی میں ایمان لا چکے تھے لیکن
کچھ مصلحتوں کے پیش نظر انہوں نے اپنے اسلام کو مخفی رکھا اور ظاہری طور پر مشرکین
سے ہمیشہ کے معمول کے مطابق ملتے جلتے رہے۔ مدارج النبوة میں ہے کہ حضور کی ہجرت کے
بعد وہ مشرکوں کی خبریں آپ کو لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ ہجرت
کر کے مدینہ چلے جائیں لیکن حضور نے ان کو پیغام بھیجا کہ آپ کا مکہ ہی میں اقامت گزین
رہنا زیادہ
منفعت بخش ہے۔
دعوت توحید کے آغاز کے بعد مشرکین مکہ نے حق کے داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے نام لیواؤں کو جس طرح ستایا اور حق کے راستے میں جس طرح روڑے اٹکائے وہ تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ اس پر آشوب دور میں حضرت عباس نے ہمیشہ حضور کا ساتھ دیا آپ کو کفار کے دست تظلم سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ایام حج میں یا دوسرے موقعوں پر قبائل عرب کو دعوت تو حید دینے تشریف لے جاتے تو کبھی کبھی حضرت عباس کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے۔ حافظ ابو نعیم نے حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس ہی کے ساتھ بنی کندۂ بنی بکر بن وائل اور بنی عامر بن صعصعہ کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو حق کی طرف بلایا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے کپڑے لڑائی میں پھٹ گئے
تھے
حضور سلیم نے حکم دیا کہ سب کے لیے کپڑے مہیا کیے جائیں۔ چنانچہ
آپ ﷺ
نے سب کو کپڑے دلوائے۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ حضرت عباس کا
قد ا تا بلند و بالا کہ ان کے بدن پر کسی کا پیرہن ٹھیک نہیں اترتا تھا۔
اس موقع پر
رئیس المنافقين
عبد اللہ بن
اُبی نے جو
حضرت عباس کی طرح
بلند قامت تھا اپنا کرتا منگوا
کر انہیں پہنایا۔
چند سال بعد
حضور سلیم نے ابن
ابی کے مرنے
پر اپنا پیر
بن مبارک اس
کی لاش کو
پہنانے کے لیے
دیا وہ در
حقیقت اس کے
اس احسان
کا معاوضہ تھا۔
چند دن بعد سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کے بعد یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ غزوہ بدر کے جو قیدی فدیہ دینے کی مقدرت رکھتے ہیں ان سے بقدر استطاعت فدیہ لیا جائے اور جو فدیہ نہیں دے سکتے اور لکھنا جانتے ہیں وہ انصار کے دس دس بچوں کو لکھنا سکھا دیں۔ جب وہ اچھی طرح لکھنا سیکھ جائیں تو قیدیوں کو رہا دیا جائے اور جو نہ فدیہ دے سکتے ہیں اور نہ کتابت جانتے ہیں ان کو بطور احسان چھوڑدیا جائے
صحیح بخاری
میں ہے کہ
حضرت عباس کی والدہ
کا تعلق انصار
کے قبیلہ خزرج
سے تھا اس
لیے انصار نے
حضور کی
خدمت اقدس میں حاضر
ہو کر عرض
کیا کہ عباس
ہمارے بھانجے ہیں، ہم
ان کا فدیہ
چھوڑتے ہیں لیکن حضور نے
اصول مساوات کے پیش
نظرحضرت عباس دلیل کے
صاحب حیثیت ہونے کی
بنا پرانصار کی
درخواست کو قبول
نہ فرمایا اور
حضرت عباس سے
ایک بڑی رقم
فدیہ طلب فرمائی
شیخ عبد
الحق محدث دہلوی نے
” مدارج النبوة“ میں
یہ روایت درج
کی ہے کہ
حضرت عباس مکہ سے
اپنے ساتھ اوقیہ
سونا اس غرض
سے لائے تھے
کہ واپسی کے
وقت قریش کے
لشکر کو کھانا
کھلائیں گے لیکن
جب وہ گرفتار
ہو گئے تو
ان سے سونا
لے کر مال
غنیمت میں داخل کر
دیا گیا ۔
حضرت عباس نے بارگاہ
رسالت میں عرض کیا
کہ وہ سونا
جائے
لیکن حضور صلی میرا فدیہ سمجھا
نے ان
کی استدعا کو
قبول نہ کیا
امام احمد
بن حصیل لیہ
اور ابن جریر
طبری نے بیان
کیا ہے کہ
حضرت عباس
نے ززرفدیہ
کے مطالبہ کے جواب
میں عرض کیا
کہ میں تو
در پردہ مسلمان
تھا، قریش نے مجھ
کوزبردستی اس لڑائی
میں شریک کیا۔
حضور سلام نے فرمایا
دل کے حال
سے اللہ تعالی
زیادہ واقف ہے اگر
آپ کا بیان
صحیح ہے تو
اللہ تعالیٰ اس کا
اجر دے گا
لیکن بظاہر تو آپ
مشرکین کے لشکر
میں شریک ہو
کر اہل حق
سے لڑنے آئے
تھے اس لیے
آپ کو فدیہ دینا ہو گا
اب حضرت
عباس اللہ نے اپنی
بے مائیگی کا
عذر کیا اور
کہنے لگے اے بھتیجے
یہ سخت شرم
کی بات ہو
گی کہ آپ
کا.
زر فدیہ
کے لیے دوسروں
کے سامنے ہاتھ
پھیلائے۔
ادھر وحی
الہی کے ذریعہ
حضور کو حضرت
عباس کے
گھر یلو حالات
کا علم
ہو چکا
تھا۔ آپ نے
فرمایا اللہ تعالی نے
آپ کو بہت
کچھ دے رکھا
ہے مکہ سے
چلتے وقت آپ سونے
کی ایک بڑی
مقدار ام الفضل
کے پاس رکھ
آئے تھے اور
ان سے کہا
تھا کہ معلوم
نہیں لڑائی کا کیا
انجام ہو۔ اگر میں
بخیریت واپس تو بہتر
ورنہ چار بیٹوں میں
سے فضل کو
اس قدر عبد
اللہ کو اس
قدر ختم کو
اس قدر اور
عبید اللہ کو اس
قدر دینا۔
حضرت عباس نے
حیرت زدہ ہو کر
پوچھا آپ کو
کیسے معلوم ہوا ؟
ارشاد ہوا وحی الہی
کے ذریعہ سے
معلوم ہوا ۔ حضرت
عباس نے
بے ساختہ کہا خدا کی قسم اس رقم کا حال میرے اور ام الفضل کے سوا کوئی نہ جانتا تھا بلا شبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے بعد حضرت عباس نے اپنا اور اپنے بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کا فدیہ ادا کر کے آزادی حاصل کی۔
فتح
مکہ کے موقع
پر حضرت عباس
اللہ ان دس
ہزار جاں بازوں میں
شامل تھے جن کو
سرور عالم صلی اللہ
علیہ وسلم کی ہمرکابی
کا شرف حاصل
ہوا ۔ حضور
صلی ہم نے
مکہ کے قریب
پہنچ کر مر
الظہر ان میں
قیام فرمایا۔ لشکر اسلام
میں شامل بہت
سے صحابہ کرام
کے اعزہ واقر
با مکہ میں
موجود تھے۔ حضرت عباس کے
دل میں خیال
آیا کہ حضور
مکہ میں داخل
ہو گئے اور
قریش نے پہلے
سے جان و
مال کی امان
نہ لے لی
تو سب برباد
ہو جائیں گے۔
چنانچہ وہ اس
تلاش میں لشکر سے
باہر نکلے کہ ملکہ
کا کوئی آدمی
مل جائے تو
اس کے ہاتھ
قریش کو پیغام
بھیجیں کہ مر
الظہران آکر حضور ملی
ٹیم سے امان
کی استدعا کریں۔
اتفاق سے انہیں
قریش کے سربرآوردہ
رئیس ابوسفیان بن حرب
مل گئے ۔
حضرت عباس نے انہیں
حضور کی
آمد کی خبر
دی تو وہ
سراسیمہ ہو گئے
اور حضرت عباس سے
درخواست کہ وہ
انہیں اپنی پناہ میں
لے کر حضور کی
خدمت میں لے چلیں
۔ حضرت عباس
انہیں اپنے ساتھ
سوار کر
کے حضور صلی کے
خیمۂ اقدس کی طرف
روانہ ہوئے ۔ راستے
میں حضرت فاروق کی
نظر ان پر
پڑی تو وہ
جوش غضب میں
پکارے اور شمن خدا
اللہ کا شکر
ہے کہ اس نے کسی عہد و پیمان اور ذمہ داری کے بغیر ہمیں تجھ پر قابو دے دیا ۔ لیکن حضرت عباس ساتھ تھے اس لیے وہ سیدھے حضور ملی ایم کی خدمت میں پہنچے۔
حضرت عباس
بھی ان سے
پہلے پہنچ چکے تھے
۔ حضرت عمر
فاروق علی نے عرض
کیا : یا رسول
اللہ ! یہ ابوسفیان
ہے۔ اللہ تعالیٰ
نے ہمیں بغیر
کسی عہد و
پیمان کے اس
پر قابو دے
دیا ہے اجازت
ہو تو اس
دشمن خدا کی گردن اڑا دوں
حضرت عباس
نے عرض کیا،
یا رسول اللہ
! میں نے اس
کو پناہ دی
ہے. لیکن حضرت
عمر فاروق علی
برابر ابو سفیان کے
قتل کی اجازت
طلب کر رہے
تھے۔ اُن
کا اصرار د
یکھ کر حضرت
عباس نے
فرمایا
عمر! اگر
تمہارے قبیلہ کا کوئی
آدمی ہوتا تو تم
کبھی اس کی
جان لینے پر
اتنا اصرار نہ کرتے
لیکن تمہیں بنی عبد
مناف کی کیا
پروا ؟ حضرت
فاروق
نے جواب
میں فرمایا " عباس
! خدا کی قسم
مجھ کو آپ
کے اسلام کی
اس قدر
خوشی ہوئی
کہ اگر میرا
باپ خطاب بھی
اسلام لاتا تو میں
اتنا خوش نہ ہوتا
۔ حضور نے حضرت
عباس سے
فرمایا اس وقت
انہیں اپنے ساتھ لے
جائیے اور
کل صبح پھر
ساتھ لے کر
آئیے اسی وقت کوئی
فیصلہ کیا جائے گا۔
حضرت عباس علی اللہ
انہیں لے گئے
اور دوسرے دن
پھر بارگاہ نبوی
میں لاکر پیش
کیا۔ حضور نے
ابوسفیان سے
مخاطب ہو کر
فرمایا:ابوسفیان ! افسوس کا مقام
ہے کیا اب
بھی وقت نہیں
آیا کہ تم
خدا کی وحدانیت
کا
اقرار کرو
ابوسفیان نے
خدا کی وحدانیت
کا اقرار کیا۔
پھر حضور صلی
امام نے فرمایا:
ابوسفیان کیا
ابھی وہ وقت
نہیں آیا کہ تم
مجھے اللہ کا رسول
مانو۔
جواب میں
ابوسفیان نے حضور کی
شرافت، علم و حمل
او صلہ رحمی
کا اعتراف کیا
لیکن رسالت پر ایمان
لانے میں تذبذب کا
اظہار کیا۔ اس پر
حضرت عباس نے ابوسفیان کو
ایسے مؤثر انداز میں
سمجھایا کہ وہ
فورا کلمہ توحید پڑھ
کر مشرف بہ
ایمان ہو گئے۔
جب وہ لوٹنے
لگے تو حضور
صلی نے
حضرت عباس سے فرمایا کہ
ابوسفیان کو پہاڑ
کی چوٹی پر
لے جا کر
کھڑا کر دیں
تاکہ وہ لشکر
اسلام کے جلال
اور سپاہیوں کے
جوش ایمان کا
منظر دیکھ سکیں۔ حضرت
عباس بھی یہ انہیں
ساتھ لے کر
پہاڑ کی چوٹی
پر کھڑے ہو
گئے اور جب
تک سارا لشکر
ان کے سامنے
سے نہ گزر
گیا وہیں
کھڑے رہے۔
فتح مکہ
کے بعد حضرت
عباس غزوہ
حنین میں شریک ہوئے۔
جب بنو ہوازن
کی بے پناہ
تیر باری سے
مسلمانوں کی صفیں
ابتر ہو گئیں
تو حضرت عباس ان
چند سرفروشوں
میں تھے جو
سرور عالم صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ
میدان جنگ میں کوہ
استقامت بن کر
کھڑے تھے۔
حضور
یہ رجز پڑھ
رہے تھے :
أَنَا النَّبِيُّ
لَا كَذِبُ
أَنَا ابْنُ
عَبْدِ الْمُطَّلِبُ
میں نبی
ہوں اس میں
مطلق کوئی جھوٹ نہیں،
میں عبد المطلب
کا فرزند ہوں
) مسند احمد میں خود
حضرت عباس علیہ سے
روایت ہے کہ
لڑائی میں جب مشرکوں
کا غلبہ ہوا
اور مسلمانوں میں
پیدا ہوا تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے مجھے
حکم دیا که
نیزہ برداروں کو آواز
دوں۔ قدرت نے مجھے
بلند آواز دی تھی۔
میں نے پوری
قوت سے نعرہ
مارا این اصحاب السمر
؟ (اے بول
کے درخت کے
نیچے بیعت کرنے والو
کہاں ہو؟ میرا نعرہ
سنتے ہی تمام
مسلمان پڑے اور انہوں
نے کفار کو
اپنی تلواروں
اور نیزوں پر
رکھ لیا۔
حجتہ الوداع سے واپس آکر
سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم علیل ہو گئے ۔
ازواج مطہرات ، حضرت عباس
،
حضرت علی اور
دوسرے بنو ہاشم نے تیمارداری میں
کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن
حضور صلی
کی علالت بڑھتی ہی گئی۔ وفات
کے دن حضرت علی
حجرۂ
اقدس سے باہر نکلے
تو لوگوں نے پوچھا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال
ہے؟ چونکہ اس دن بظاہر
افاقہ ہو گیا تھا،
حضرت علی نے
فرمایا اللہ کے فضل سے
رو بصحت ہیں ۔ حضرت عباس نے
حضرت علی
کا ہاتھ پکڑ
کرلیا اور انہیں الگ لے جا کر
کہا
علی اتم کس خیال میں
ہو؟ میں خاندان عبدالمطلب کے چہروں سے
موت کا اندازہ کر
لیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس
بتا رہا ہے کہ آپ
بہت جلد ہمیں داغ مفارقت دے جائیں گئے
۔
آفتاب رسالت غروب
ہوا تو دوسرے
دن علیتجہیز و
تکفین کی خدمت
حضرت
،
حضرت عباس ، حضرت
فضل بن عباس
، حضرت قشم
بن عباس حضرت اسامہ بن
زید اور
حضرت اویس بن خولی
انصاری نے
انجام دی۔ سند ابی
داؤد اور طبقات ابن
سعد میں ہے
کہ غسل دیتے
وقت حضرت اوس
پانی
کا گھڑا بھر
بھر کر لاتے
تھے، حضرت علی علی
اللہ نے جسد
اطہر کو سینہ
سے لگا رکھا
تھا، حضرت عباس اور
ان کے صاحبزادے
فضل اور
تمام جسم مبارک کی
کروٹیں بدلتے تھے۔ اور
اسامہ بن زید
اوپر
سے پانی ڈالتے
تھے۔ بعض رواتیوں میں
ہے کہ حضرت
علی غسل
دیتے تھے اور حضرت
عباس نے
پردہ کر رکھا
تھا۔
حضرت عباس چونکہ
عمر کے لحاظ
سے بنو ہاشم
کی بزرگ ترین
شخصیت تھے، حضور کے وصال
کے بعد لوگ
تعزیت کے لیے
ان ہی
کے پاس آئے۔
حضرت عباس
قبول
اسلام سے پہلے
بھی حضور کا
بہت خیال رکھتے
مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت عباس سے پو جھا
آپ
بڑے ہیں یا
رسول الله پو ؟ حضرت عباس نے جواب دیا
گو میں کچھ
سال رسول اللہ
اللہ علیہ وسلم سے
پہلے پیدا ہوا لیکن
ہیں آپ ہی
برے۔ سرور عالم صلی
اللہ علیہ وسلم کو
بھی حضرت عباس
دلیل سے بہت
محبت تھی
آپ اپنے اعزہ واقارب
میں ان سے
زیادہ کسی کا احترام
نہیں کرتے تھے۔ ایک
مرتبہ شام سے کچھ
خشک پھل حضور
ملی نیم کے
پاس آئے ۔
اتنے میں حضرت عباس آگئے
۔ حضور صلی
علیم نے انہیں
دیکھا تو روئے
انور پر بشاشت
پھیل
گئی اور
فرمایا:
اس وقت
میری خواہش تھی کہ
میرا کوئی بہت پیارا
عزیزان
پھلوں کو کھائے میری یہ آرزو پوری ہوئی اور آپ آگئے ۔
ام المؤمنین
حضرت عائشہ صدیقہ سے
روایت ہے کہ
ایک دن حضورﷺ اپنے
اصحاب کے
درمیان تشریف فرما تھے
اور آپ کے
پہلو میں حضرت ابوبکر
ا و
حضرت عمر
ہی تھے اتنے
میں حضرت عباس
آگئے ۔ حضرت
ابو بکر نے ان
کے لیے
جگہ خالی کر
دی۔ اس پر
حضور نے ابوبکر
سے
مخاطب ہو کر
فرمایا:
اہل فضل
کی فضیلت اہلِ
فضل ہی جانتا
ہے ۔ ( ابن
عساکر )
حضرت عبد
اللہ بن عباس
ان سے روایت
ہے کہ حضرت
ابو بکر صدیق
حضور کی
مجلس مبارک میں دائیں
جانب مخصوص جگہ پر
بیٹھا کرتے تھے لیکن
حضرت عباس آجاتے
تو حضرت ابوبکر
ان
کے لیے اپنی
جگہ خالی کر
دیا کرتے
تھے ان
کی یہ بات
حضور کو بہت
خوش کیا کرتی
تھی۔ (طبرانی)
ایک مرتبہ
حضرت عباس نے بارگاہ
رسالت میں شکایت کی
کہ یا رسول
اللہ ! قریش جب ایک
دوسرے سے ملتے
ہیں تو بہت
بشاشت سے ملتے
ہیں لیکن جب
ہم سے ملتے
ہیں تو ان
کے چہروں پر
کراہت کے آثار
ہوتے ہیں۔ یہ سن
کر حضور ملی
یم کو غصہ
آگیا یہاں تک کہ
آپ کی
پیشانی پر دونوں
آنکھوں کے درمیان
کی رگ ابھر
آئی ۔ آپ
نے فرمایا،
قسم اُس ذات
کی جس کے
قبضہ قدرت میں محمد
کی جان ہے
کسی آدمی کے
دل میں ایمان
نہیں داخل ہو گا
جب تک وہ
تم لوگوں کو
اللہ اور اس کے
رسول کے لیے
دوست نہ رکھے۔
اس کے بعد
آپ صلی اللہ
نے فرمایا لوگوں
کو کیا ہو
گیا ہے کہ
مجھے عباس کے بارے
میں تکلیف دیتے
ہیں؟ آدمی
کا چچا اسکےباپ
جیسا ہے
یعنی ایک درخت کی
دو شاخیں ہیں۔
(مستدرک حاکم جامع ترندی و مسند احمد )
ایک اور موقع پر حضور نے فرمایا عباس مجھ سے ہیں اور میں عباس سے ہوں۔ (مستدرک
ایک دفعہ
حضور نے حضرت
عمر فاروق کو اہل
مدینہ سے زکوۃ
اور
صدقات کی
وصولی کے لے
بھیجا۔ انہوں نے حضرت
عباس سے
مال کی زکوۃ
کا مطالبہ کیا
تو انہوں نے
کچھ دینے سے
انکار کر دیا۔
اس پر دونوں
بزرگوں کے درمیان
کچھ تلخ کلامی
ہو گئی۔ حضرت
عمر فاروق حضرت علی کو
ساتھ لے کر
بارگاہ رسالت
میں حاضر ہوئے
اور واقعہ عرض
کیا۔ حضور صلی ﷺ
نے فرمایا میں
نے عباس سے
دو سال کی
زکوٰۃ پہلے ہی وصول
کر رکھی ہے
اب تم ان
سے کچھ نہ
کہنا
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان ذوالنورین علی کے دور خلافت
۳ ہجری) میں پیک اجل کو لبیک کہا۔ وقت ان کی عمر باختلاف روایت 87 یا 88 سال کی تھی
۔ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی نے نماز جنازہ
پڑھائی اور فرزند
گرامی حبر الامۃ حضرت عبد اللہ بن عباس نے لحد میں
اتارا۔
حضرت عباس نے اپنے پیچھے چار بیٹیاں اور آٹھ بیٹے چھوڑے۔ ان میں سے حضرت عبداللہ بن عباس بھی اتنا علم وفضل کے اعتبار سے اساطین اُمت میں شمار ہوتے ہیں۔
سید نا حضرت عباس کے صحیفہ
اخلاق میں جو دوسخا، مہمان نوازی ہمدردی خلائق اور حب رسول ص کے ابواب سب سے نمایاں
ہیں۔ وہ مکہ میں ہر وقت غریبوں اور مظلوموں
کی حمایت پر کمر بستہ رہتے تھے۔ ہجرت کر کے مدینہ میں مستقل اقامت اختیار کی تو ان
کی سخاوت اور فیاضی کا یہ عالم تھا کہ کسی حاجت مند اور سوالی کو نا کام
واپس نہ لوٹاتے ہر ایک کی مدد کرتے بے شمار غلام خرید کر آزاد
کیئے،
بیواؤں
کے اخراجات کی کفالت کی بہت سے یتیم بچوں کی پرورش اپنے ذمہ لی
اور راہ حق میں
کبھی کسی قربانی سے دریغ نہ کیا۔
علامہ ابن اثیر نے اسد
الغابہ میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تشریف فرما
تھے کہ حضرت عباس کو اپنی طرف آتے
دیکھا۔ حضور ملی ٹیم نے صحابہ اللہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:
یہ عباس ہیں، قریش میں سب سے بڑھ کر فراخ دست ہیں اور اپنے
اقرباء کا خیال رکھتے ہیں ۔
حضرت ابو بکر صدیق علی کے عہد خلافت میں فتنہ ردہ آغاز ہوا اور
بعض سرکش قبائل نے ذی القصہ میں جمع ہوکر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا
تو حضرت عباس نے مدینہ منورہ کی حفاظت کرنے
پر بڑی سرگرمی سے خلیفۃ الرسول
کی اعانت کی۔
دائرہ معارف اسلامیہ میں ہے کہ بعض روایات کی رو سے حضرت عباس
نے محاربات شام میں بھی حصہ لیا۔ حضرت فاروق
کے عہد خلافت میں انہوں
نے اپنا وسیع مکان محض رضائے الہی کی خاطر مسجد نبوی کی توسیع کے لیے دے دیا۔
عبادت الہی سے بھی خاص شغف تھا۔ رقیق القلمی کی یہ کیفیت تھی کہ
دعا کے
لیے ہاتھ اٹھاتے تو سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی۔
حضرت عباس کو اللہ تعالیٰ نے حُسن سیرت کے ساتھ حسن صورت سے بھی نواز ا تھا۔ قد طویل رنگ میدہ و شہاب جلد نازک اور چہرے کے نقوش دلآویز تھے۔
خلفائے عباسیہ حضرت کی
اولاد ہی سے تھے۔ عباس کی
عظمت کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوسکتی ہے کہ صدیوں سے لاکھوں منبروں
پر جمعہ
کے خطبوں میں ان کا نام برابر لیا جا رہا ہے۔
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
