- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
حضرت جعفر طیار ہاشمی (مہاجر حبشہ ومدینہ سابقون الاولون )
حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں سب سے پہلے تلاوت کلام پاک کرنے کا شرف حا صل کرنے والے جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا نام و نسب
حضرت جعفر طیار حضرت ابو طالب کے بیٹے ، حضرت علی کے حقیقی بھائی اور رسول اللہ کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کا لقب طیار اور کنیت ابو عبداللہ تھی۔
( تاریخ طبری ۔ اسد الغابہ - انساب الاشراف - حضور کے رشتہ (دار
آپ تبلیغ اسلام کے ابتدائی دور میں حضور کے دارارقم میں پناہ لینے سے پہلے ایمان لائے ۔ مشرکین کے ظلم وستم سے تنگ آکر رسول اللہ کے حکم پر اپنی اہلیہ کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئے ۔ اس طرح وہ مہاجرین حبشہ کے دوسرے قافلے میں شامل تھے۔ بعض مؤرخین کے مطابق حضور نے ان کے ہاتھ نجاشی کو خط بھی بھیجا تھا۔ (اصابہ ۔ اسد الغابہ ۔ سیرت ابن ہشام - تاریخ طبری )
حضرت جعفر طیار کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں قرآن پڑھنے کا موقع بھی ملا
قریش مکہ حبشہ ہجرت کرنے والے کو واپس لانے کے لئے ایک وفد حبشہ بھیجا۔ وفد میں عمرو العاص بھی تھے جو بعد میں مسلمان ہو گئے ۔ انہوں نے نجاشی سے کہا کہ لوگ جو مسلمان ہو گئے ہیں آپ کے پیغمبر عیسی علیہ السلام کو نہیں ما نتے
اس پر نجاشی نے بھرے دربار میں مسلمان مہاجرین سے پوچھا کہ کیا وہ عیسی ابن مریم کو نہیں مانتے اور ان کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے۔ نجاشی کے اس سوال پر حضرت جعفر طیار نے کہا کہ ہمارے نبیﷺ نے حضرت عیسی کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی طرف سے ایک روح اور ایک کلمہ ہیں جسے اللہ تعالی نے پاک دامن مریم پر القاء کیا تھا۔ انہوں نے سورۃ مریم کی آیات پڑھیں (سیرت ابن ہشام زادالمعاد - اسد الغابہ )
اور یہ تقریر کی
“ بادشاہ! ہم جہالت اور بربریت کی گہرائی میں ڈوب گئے "تھے۔ ہم بتوں کو پسند کرتے تھے ہم بے حیائی میں رہتےتھے
اور ہم نے نا پسندیدہ باتیں کیں, ہم نے انسانیت کے ہر احساس کو نظر انداز کیا,اور مہمان نوازی اور آپس کے فرائض سے غفلت برتی رشتہ داری کو توڑا ;ہم طاقت کے قانون کے سوا کوئی قانون نہیں جانتے تھے,جب اللہ تعالٰی نے ہم پر اپنا فضل کیا اور اللہ نے ہمارے درمیان ایک شخص کو بھیجا ,جن کی پیدائشی، سچائی، ایمانداری اور پاکیزگی سے ہم واقف تھے
اس نے ہمیں اللہ کی وحدانیت کی طرف پکارااور ہمیں سکھایا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنااس نے ہمیں بتوں کی عبادت سے منع کیااور اس نے ہمیں حق کی بات کہنے کا حکم دیا,مہربان ہونا اور پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھنا;اس نے ہمیں عورتوں سے برا سلوک کرنے سے منع کیا. یتیموں کا مال کھانے سے منع فرمایا اس نے ہمیں برائیوں سے دور رہنے کا حکم دیا, خیرات کرنے کا حکم دیا نماز ادا کرنے کا طریقۂ بتایا
اور ہم نے اس کی تعلیمات اور اس کے حکموں کو قبول کر لیا ہے کہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو کچھ اس نے اجازت دی ہے ہم وہی کرتے ہیں اور جس چیز کو حرام قرار دیا ہے اس پر ہم نے پابندی لگا دی ہے.“ اس وجہ سے، ہمارے لوگ ہمارے خلاف اٹھے ہیں,اور ہم پر ظلم کرتے ہیں تاکہ ہم اللہ کی عبادت سے اجتناب کریں اور بتوں کی عبادت کی طرف لوٹ آئیں.
انہوں نے ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا اور زخمی کیا، یہاں تک کہ ان کے ظلم سے تنگ آ کر ہم آپ کے ملک میں آئے ہیں، اور امید کرتے ہیں کہ آپ ہمیں ظلم سے بچائیں گے۔
[حوالہ: ار-رقیق المختوم]۔
حضرت جعفر طیار کی پر جوش تقریر سن کر شاہ حبشہ نجاشی نے زمین پر سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: خدا کی قسم تم نے عیسی ابن مریم کے بارے میں جو کچھ کہا ہے۔ وہ اس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں ہے۔ پھر اس نے مسلمانوں سے کہا: جاؤ تمہیں میرے ملک میں ہر طرح کی آزادی ہے۔ جو تمہیں تنگ کرے گا اس سے جرمانہ لیا جائے گا۔ اگر مجھے پہاڑ کے برابر بھی سونا ملے، تو میں اس کے عوض تم پر ادنی سی زیادتی بھی گوارا نہیں (سیر الصحابه - تاریخ طبری - سیرة ابن اسحاق - )
اس کے بعد آپ طویل عرصہ حبشہ میں مقیم رہے اور غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت جعفر طیار اپنے بعض سا تھیو ں
کے ساتھ مدینہ آئے ۔ رسول اللہ اس وقت خیبر میں تھے اور خیبر فتح ہوا تھا۔ تمام مرد اپنے اہل وعیال کو مدینہ چھوڑ کو مدینہ چھوڑ کر خیبر پہنچے اور اور حضورﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوگئے۔
( البدایہ والنہایہ طبقات اسدالا بہ سیرت ابن ہشام)
رسول اللہ نے خیبر میں حضرت جعفر طیار کی آمد پرآپ نے ان کو گلے لگا کر ان کی پیشانی کو چوما اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ مجھ کو خیبر کی فتح کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر کے آنے کی ۔ حضور نے سب کوخیبر کے مال غنیمت سے حصہ دیا۔ (طبقات - سوشیدائی)
حضرت جعفر طیار عمرۃ القضاء میں حضور کے ساتھ تھے واپسی پر حضرت حمزہ کی یتیم بچی امامہ چا چایا بھائی بھائی کہتی ہوئی حضور کی طرف دوڑی آئی ۔ حضرت علی نے اسے اٹھا لیا اور پھر حضرت فاطمہ کے حوالے کر دیا۔ حضرت جعفر نے کہا کہ یہ میرے چا چا کی بیٹی ہے اس لئے میرا اس پر زیادہ حق ہے۔ حضرت زید بن حارثہ نے کہا کہ حمزہ میرے مواخاتی بھائی تھے اس لئے میرا زیادہ حق ہے۔ حضور نے فیصلہ دیا کہ حضرت جعفر کے گھر میں امامہ کی خالہ ہے اور خالہ ماں کے برابر ہوتی ہے۔ اس لئے جعفر کا سب سےزیادہ حق ہے۔ چنانچہ حضرت جعفر امامہ کو اپنے گھر لے آئے۔
( صحیح بخاری ۔ سوشیدائی )
حضرت جعفر طیار جنگ موتہ میں شہید ہوئے ۔ رسول اللہ نے جب امراؤ سلاطین کے نام دعوت اسلام کے خط بھیجے تو حضرت حارث بن عمیر از دی کو بصری کے حاکم کے پاس بھیجا۔ انہیں موتہ کے مقام پر بلقاء کے رئیس شرجیل بن عمرو غسانی نے شہید کر دیا۔ حضور نے ان کی شہادت کا بدلہ لینے کے لئے حضرت زید بن حارثہ کی سرکردگی میں تین ہزار مجاہدین کا جو لشکر روانہ فرمایا اس میں حضرت جعفر بھی تھے۔ آپ نے فرمایا: اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر لشکر کے امیر ہوں گے۔ وہ بھی شہید ہو جائیں تو حضرت عبد الله بن رواحہ امیر ہوں گے ۔ چنانچہ یہ حضرات جنگ کے دوران بہت بہادری سے لڑے اور باری باری شہید ہوئے حضور کو وحی کے ذریعے یہ منظر دکھایا دیا گیا تھا۔
(صحیح بخاری ۔ البدایہ والنہایہ۔ زاد المعاد)
حضرت جعفر طیار پرچم اسلام سنبھالتے ہی اپنے گھوڑے سے کود گئے اور اس کی کا نچھیں کاٹ ڈالیں پھر رومی دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور دیوانہ وار لڑتاشروع کر دیا۔
(البدایہ والنہایہ - طبقات - سوشیدائی)
رسول اللہ نے مسجد نبوی میں صحابہ سے جنگ موتہ کا منظر بیان فرمایا اورارشاد فرمایا یہ میرے بھائی ، میرے مونس اور میرے جلیس تھے ۔“ آپ ﷺحضرت جعفر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لے گئے انکی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس اور ان کے بچوں کو دلاسا دیا۔ پھر حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ جعفر" کے بچوں کے لئے کھانا تیارکریں۔
(اسد الغابه - طبقات - البدایہ والنہایہ)
حضرت جعفر کی غریب نوازی پر حضور انہیں ابو المساکین کہا کرتے تھے۔ آپ کا لقب طیار اس لیے پڑا کیونکہ آپ کی شہادت کے کچھ عرصہ بعد رسول اللہ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل نےمجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت جعفر کو کئے ہوئے بازوؤں کے عوض دونئے باز و دیئے ہیں جن سے وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے پھرتے ہیں۔
(طبقات - اسد الله به سیر الصحابة )
جعفر طیار کا لقب ذوالجناحین بھی بتایا گیا ہے۔کیونکہ رسول اللہ ان کی صورت وسیرت کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: " جعفر تم صورت اور سیرت دونوں میں مجھ سے مشابہ ہو۔
( صحیح بخاری۔ سو شیدائی )
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس