حضرت ام عمارہ (رضی اللہ عنہا)

حضرت فضل بن عباس ہمرکاب رسول ﷺ

حضرت فضل رضی اللہُ تعالیٰ عنہ  بن عباس رضی اللہُ تعالیٰ عنہ  ہمرکاب رسول ﷺ

حضرت فضل رضی اللہُ تعالیٰ عنہ بن عباس رضی اللہُ تعالیٰ عنہ ہمرکاب رسول ﷺ    

     رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم مجتہ الوداع کے لیے مکہ معظمہ تشریف لے گئے تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ  نے اپنے مرکب ہمایوں پر ایک حسین و جمیل نوجوان کو بٹھا رکھا ہے جن کے رخ تاباں سے نور کی شعاعیں اسطرح پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہیں کہ کوئی ان کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ حج پر آنے والے مجمع میں بنو حثعم کی ایک نہایت خوش جمال خاتون بھی تھیں۔ اُن کی نظر حضور کے ردیف نوجوان کے چہرے پر پڑی تو وہیں ٹک کر رہ گئی ۔ خاتون کو حضور   سے کوئی مسئلہ پوچھنا تھا اس لیے وہ آپ  کی سواری کے بہت قریب کھڑی تھیں اور حج پر ہونے کی وجہ سے ان کا چہرہ بے نقاب تھا۔ حضور کے ردیف نوجوان کی نظر خاتون پر پڑی تو وہ بھی ان کی طرف بغور دیکھنے لگے ۔ حضور صلی نے نوجوان کی ٹھوڑی پکڑ کر ان کا چہرہ دوسری طرف کر دیا لیکن تھوڑی دیر بعد نوجوان کی نظر پھر اُن خاتون کی طرف اٹھ گئی۔ ایسا دو تین مرتبہ ہوا تو حضور صلی نے نوجوان سے مخاطب ہو کر فرمایا:

برادر عزیز! آج کے دن جو شخص اپنی آنکھ زبان اور کان پر قابورکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف کر دے گا۔

حضور کا ارشاد گرامی سن کر نو جوان نے فورا اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا اور پھر بھول کر بھی اس طرف.  نہ دیکھا

یہ نوجوان جن کو حجتہ الوداع کے تاریخی موقع 

سیدالمرسلین کا ردیف بنے کا شرف حاصل ہوا اور جنہوں نے حضور کے ارشاد گرامی کے سامنے فورا سر تسلیم خم کر دیا۔ حضرت فضل بن عباس  تھے۔

آپکا حسب و نسب :

سید نا ابومحمد فضل بن عباس ٹینا کے حسب و نسب کے بارے میں یہی کہہ دینا کافی ہے کہ دودمان ہاشمی کے چشم و چراغ تھے اور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب کے فرزند تھے۔ والدہ کا نام ام الفضل لبابہ  تھا۔ ان کی جلالت قدر کا اندازہ حافظ ابن عبد البر اور علامہ ابن امیر کے اس قول سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ پہلی خاتون تھیں جو حضرت خدیجہ الکبری کے بعد سعادت اندوز ایمان ہوئیں۔ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث  حضرت فضل کی خالہ تھیں۔ ان کے والد گرامی حضرت عباس  بھی اسلام قبول کر چکے تھے لیکن انہوں نے بوجوہ کئی سال تک اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھا۔ علامہ ابن سعد  ابو رافع کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں حضرت عباس  کا غلام تھا اور اسلام ہمارے گھر میں داخل ہو چکا تھا۔ حضرت عباس ان کی اہلیہ ام الفضل اور میں سب مسلمان ہو چکے تھے۔ مگر حضرت عباس کا اپنا اسلام چھپائے ہوئے تھے۔ حضرت فضل بھی بعثت نبوی  کے اوائل ہی میں شرف اسلام سے بہرہ ور ہو چکے تھے۔ لیکن اپنے والد گرامی کی طرح انہوں نے بھی اسلام کا چرچا کرنا مناسب نہ سمجھا۔ فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے حضرت عباس نے ارض مکہ کو الوداع کہا اور ہجرت کر کے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اہل و عیال بھی ہمراہ تھے۔ حضرت عباس اپنے فرزندوں کو

ساتھ لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور بے حد مسرور ہوئے اور سب کو

دعائے خیر و برکت سے نوازا۔ حضرت فضل کو سب سے پہلے فتح مکہ کے موقع پر سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد وہ بڑے جوش اور جذبہ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک ہوئے اور تحیر خیز سرفروشی کا مظاہرہ کیا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ جب دشمن کی بے پناہ تیر اندازی سے مسلمانوں میں انتشار پھیل گیا تو حضرت فضل اس وقت بھی چند دوسرے جانبازوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں کوہ استقلال بن کر کھڑے تھے اور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو تیروں کی زد سے بچانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا رکھی تھی۔ ان سرفروشوں کی ہمت مردانہ ہی کا نتیجہ تھا کہ مسلمان بہت جلد واپس پلٹ پڑے اور مشرکین بنو ہوازن کو عبرتناک شکست دی۔

حجتہ الوداع میں حضرت فضل کو یہ عظیم سعادت نصیب ہوئی کہ سید الا نام رحمت دو عالم صلی نے انہیں اپنی سواری پر اپنے ساتھ بٹھایا اس طرح وہ ردیف رسول الله صل ( ہمر کاب رسول اللہ صل ) کے قابل فخر لقب سے مشہور ہو گئے ۔ اس موقع پر وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر او پر آیا ہے۔ مسند ابی داؤد میں ہے کہ حجتہ الوداع میں رمی جمار کے وقت حضرت فضل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کے پیچھے کھڑے تھے۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر چادر تان رکھی تھی تا کہ آپ دھوپ سے بچے رہیں۔ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اقدس کے آخری دنوں میں جن اصحاب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی سعادت نصیب ہوئی حضرت فضل بھی ان میں شامل تھے حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں لکھا ہے کہ حضور جس دن آخری خطبہ دینے کے لیے حجرہ مبارک سے باہر

تشریف لائے تو حضرت فضل نے ہی نے عامتہ  المسلمین کے سامنے اعلان کیا تھا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ  کے جن اعزہ کو غسل دینے کی سعادت نصیب ہوئی ان میں سے ایک حضرت فضل  تھے۔ حافظ ابن عبد البر نے "الاستیعاب میں بیان کیا ہے کہ حضرت فضل 

پانی ڈالتے تھے اور حضرت علی  غسل

 دیتے تھے۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عہد صدیقی میں قیصر روم سے معرکہ آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت فضل شام جانے والے مجاہدین اسلام کے لشکر میں شامل ہو گئے اور رومیوں کے خلاف کئی معرکوں میں داد شجاعت دی۔ بعض اہل بیئر نے لکھا ہے کہ حضرت فضل علی نے طاعون عمواس (۱۷-۱۸ ہجری) میں وفات پائی اور بعض کا قول ہے کہ انہوں نے جنگ اجنادین (۳ ہجری) میں مردانہ وار لڑتے ہوئے شہادت پائی۔ حافظ ابن حجر نے اس قول کو صحیح قرار دیا ہے ۔ حضرت فضل نے اپنے پیچھے صرف ایک لڑکی ام مکتوم چھوڑی۔ ان کا پہلا نکاح سیدنا حضرت حسن بن علی سے ہوا۔ انہوں نے طلاق دے دی تو حضرت ابو موسی اشعری

کے عقد نکاح میں آئیں۔

حضرت فضل بن عباس کا شمار راویان حدیث صحابہ کے طبقہ پنجم میں ہوتا ہے ان سے چوبیس احادیث مروی ہیں۔ ان کے رواۃ میں حضرت عبداللہ بن عباس کا اور حضرت ابو ہریرہ ہی ہے جیسے جلیل القدر صحابی اور سلیمان بن یسار ،

شعمی اور عطاء بن ابی رباح جیسے اکابر تابعین شامل ہیں۔

رضی اللہ تعالیٰ عنہم