- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ
حدیث:
"لا الہ الا اللہ" کہنے والے کو جنت کی خوشخبری
مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
_(ترمذی: 2288)_
ترجمہ:
"جو شخص *لا الہ الا اللہ* کہتا ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔"
تشریح:
1. لا الہ الا اللہ کا مطلب ہے "کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے" – یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔
2. یہ کلمہ توحید کی علامت ہے اور اسلام میں ایمان کا پہلا رکن ہے۔
3. حدیث کے مطابق، جو شخص خلوص دل سے یہ کلمہ پڑھتا ہے، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔
4. یہ خوشخبری ترمذی کی حدیث نمبر 2288 میں مذکور ہے۔
اس حدیث سے توحید اور کلمہ طیبہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
یہ حدیث توحید اور کلمہ طیبہ کی اہمیت کو واضح کرتی ہے:
1. توحید کی فضیلت:
لا الہ الا اللہ کہنا اللہ کی وحدانیت اور ربوبیت کو تسلیم کرنا ہے۔
یہ کلمہ ایمان کی بنیاد ہے اور انسان کو شرک سے بچاتا ہے۔
2. نجات کا ذریعہ:
- حدیث کے مطابق، جو شخص خلوص نیت سے یہ کلمہ پڑھتا ہے، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔
- یہ گنہگاروں کے لیے بھی امید کی کرن ہے اگر وہ توبہ کر کے اس پر ایمان لائیں۔
3. عمل کی شرط:
کلمہ پڑھنے کے ساتھ ایمان اور عمل صالح بھی ضروری ہیں۔
صرف زبان سے کہنے پر اکتفا نہیں، دل سے یقین اور عمل سے اس کی تصدیق ضروری ہے۔
4. احادیث میں تاکید:
- ایک اور حدیث میں ہے: "جو شخص 'لا الہ الا اللہ' کہہ کر مرا، وہ جنت میں جائے گا۔" (بخاری: 5827)
یہ حدیث ایمان کی نعمت اور کلمہ طیبہ کی برکت کو اجاگر کرتی ہے۔
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
.jpeg)