حضرت ام عمارہ (رضی اللہ عنہا)

 

آپ ﷺ کے ساتھی,رضی اللہُ تعالیٰ عنہم,صحابی رسول ﷺ,companions of prothet Muhammad peace be upon him,رضی اللہ عنہ

حضرت ام عمارہ (رضی اللہ عنہا)،

 جن کا اصل نام نسیبہ بنت کعب بن عمرو ،ہے    وہ قبیلہ خزرج کے خاندان بنو نجار سے تعلق رکھتی تھیں اور مدینہ منورہ میں اسلام قبول کرنے والی ابتدائی خواتین میں شامل تھیں۔

👈 نکاح :

 اپ نے پہلے یزید بن عاصم سے نکاح کیا ۔ جن سے دو لڑکوں کی ولادت ہوی ایک کا نام حبیب تھا دوسرے کا نام عبداللہ ۔یزید کے گزرنے کے بعد آپکا نکاح غزیہ بن عمرو سے ہوا جن سے تمیم اور خولہ کی ولادت ہوئی 


👈 امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کے عہدِ خلافت میں 

ایک دفعہ مالِ غنیمت میں بہت سے قیمتی کپڑے مرکزِ خلافت (مدینہ منورہ) میں موصول ہوئے۔ ان میں ایک زرکار دوپٹہ بے حد قیمتی تھا۔ مالِ غنیمت تقسیم ہونے لگا تو سیدنا عمر فاروقؓ نے حاضرینِ مجلس سے پوچھا کہ اس دوپٹے کا سب سے بڑھ کر حق دار کون ہے؟ کچھ لوگوں نے رائے دی کہ آپ یہ دوپٹہ اپنے فرزند (حضرت) عبداللہ کی بیوی کو دے دیں (۱)۔

حضرت عمرؓ کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر فرمایا:

”نہیں نہیں میں یہ دوپٹہ امّ عمارہؓ کو دوں گا وہ اس کی سب سے زیادہ حق دار ہیں کیوں کہ غزوۂ احد کے بعد میں نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا کہ احد کے دن میں امّ عمارہؓ کو برابر اپنے دائیں اور بائیں لڑتے دیکھتا تھا۔“

👈عن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول في شأن أم عمارة: (ما التفت يوم أحد يميناً ولا شمالاً إلا وأراها تقاتل دوني)

حضرت #عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ام عمارہ کی شان میں حضور ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: میں نے جنگ احد میں جب بھی ادھر ادھر نگاہ اٹھائی تو ام عمارہ کو دیکھا کہ وہ میری حفاظت میں قتال کر رہی ہیں

👈 وہ بلند ہمت خاتون تھیں

 اور وہ چاہتی تھیں کہ مسلمان مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی ایک خاص مقام دیا جائے، گو یا وہ اس پر بھی پورے دل سے راضی نہ تھیں کہ قرآن پاک مردوں کا ذکر تو اصالتاً کرے اور عورتوں کا تبعاً، انہوں نے تو حضور ﷺ سے #شکایت کی کہ سب چیزیں تو مردوں کے لیے ہیں تو عورتوں کے لیے کیا ہے؟ #اللہ تعالیٰ نے ان کی آرزو پوری کر دی اور حضور ﷺ پر ایک آیت نازل ہوئی جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا بھی پوری #صراحت کے ساتھ ذکر ہے:

اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِيْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِيْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِيْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِيْنَ وَالصَّآئِمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا


👈 بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شرکت

حضرت ام #عمارہ ان دو عظیم خواتین میں سے ایک تھیں جنہوں نے مکہ جا کر نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعتِ عقبہ ثانیہ کی تھی۔ یہ وہ تاریخی موقع تھا جہاں مدینہ کے مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ تشریف لانے کی دعوت دی اور ہر حال میں ان کا ساتھ دینے کا عہد کیا۔

👈 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست 

حضرت اُمِّ عمارہ رضی اللہ عنہا جنگِ اُحد میں زخمی ہو گئیں، جس سے ان کے جسم سے خون کا دھارا بہنے لگا۔

حضورؐ نے ان کے زخم پر خود پٹی #بندھوائی اور کئی بہادر صحابہؓ کا نام لے کر فرمایا:

”واللہ آج اُمّ عمارہؓ نے ان سب سے بڑھ کر بہادری دکھائی۔“

اُمّ عمارہؓ نے عرض کیا: ”#یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، میرے لیے #دعا فرمائیے کہ جنت میں بھی آپؐ کی معیت نصیب ہو۔“

حضورؐ نے نہایت خشوع و خضوع سے ان کے لیے دعا مانگی اور بہ آوازِ بلند فرمایا:

”اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھُمْ رُفَقَائِیْ فِی الْجَنَّةِ۔“

حضرت اُمّ عمارہؓ کو بڑی مسرّت ہوئی اور ان کی زبان پر بے اختیار یہ الفاظ جاری ہو گئے:

”ما ابالی ما اصابنی من الدنیا“

(اب مجھے دنیا میں کسی مصیبت کی پروا نہیں)

لڑائی ختم ہوئی تو حضورؐ اس وقت تک گھر تشریف نہ لے گئے۔ جب تک آپؐ نے حضرت عبداللہ بن کعبؓ مازنی کو بھیج کر حضرت اُمّ عمارہؓ کی خیریت دریافت نہ کر لی۔ #حضورؐ فرمایا کرتے تھے کہ ”احد کے دن میں دائیں بائیں جدھر نظر ڈالتا تھا اُمّ عمارہؓ ہی اُمّ عمارہؓ لڑتی نظر آتی تھیں۔“

ایک روایت میں ہے کہ غزوۂ اُحد میں حضرت اُمّ عمارہؓ کے جسم پر بارہ زخم لگے تھے

حضرت ام عمارہ کی شہرت ان کی بے مثال فوجی خدمات اور شجاعت کی وجہ سے ہے۔ غزوہِ احد میں وہ پہلے زخمیوں کو پانی پلانے اور مرہم پٹی کے لیے آئی تھیں، لیکن جب جنگ کا پاسا پلٹا اور رسول اللہ ﷺ کے گرد صحابہ کی تعداد کم رہ گئی، تو انہوں نے تلوار اور ڈھال سنبھال لی۔


صلح حدیبیہ کے موقع پر جب یہ افواہ پھیل گئی کہ قریش نے حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا ہے تو حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر بیعت کا اعلان کر دیا، آپ ﷺ کا بس یہ کہنا تھا کہ بیعت کے لیے آپ ﷺ کے پاس ازدحام لگ گیا۔ بیعت کر کے مسلمانوں نے اپنے اپنے ہتھیار اٹھا لیے، اگر چہ وہ زیادہ تعداد میں نہ تھے، حضرت ام عمارہؓ یہ دیکھ کر اٹھیں، اوپر کے ستون کو پکڑا اور اس سے اپنے لیے ہتھیار تیار کیا اور اپنے جسم پر ایک چھری لٹکالی۔

اسی طرح حنین کے موقع پر جب مسلمانوں کو ابتدائی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس وقت دو عورتوں نے ناقابلِ یقین بہادری کا ثبوت دیا تھا۔ ایک حضرت ام سلیمؓ بنت ملحان جو حاملہ ہونے کے باوجود میدان میں ڈٹی تھیں، تو دوسری حضرت ام عمارہؓ جو انصار سے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم راہِ فرار اختیار کر رہے ہو؟ انہوں نے صرف زبانی اعلان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہوزان کے ایک آدمی پر حملہ کرے کے اسے قتل کر دیا ۔


فتنہِ ارتداد اور مسیلمہ کذاب کا خاتمہ

نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، تو اس نے حضرت ام عمارہ کے بیٹے حبیب بن زید کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا۔ جب ام عمارہ کو یہ خبر ملی تو انہوں نے قسم کھائی کہ وہ خود مسیلمہ کا خاتمہ کریں گی یا اس راہ میں شہید ہو جائیں گی۔

جنگِ یمامہ: خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب جنگِ یمامہ ہوئی، تو ام عمارہ کی عمر کافی ہو چکی تھی، اس کے باوجود انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے عبداللہ کے ساتھ جنگ میں شرکت کی۔

اس جنگ میں وہ شدید زخمی ہوئیں، ان کا ایک ہاتھ بھی کٹ گیا، لیکن انہوں نے تب تک چین کا سانس نہیں لیا جب تک ان کے بیٹے اور دیگر صحابہ نے مل کر مسیلمہ کذاب کو واصلِ جہنم نہیں کر دیا۔


علمی مقام اور وفات

شجاعت کے ساتھ ساتھ حضرت ام عمارہ علمی لحاظ سے بھی بلند مقام رکھتی تھیں۔ ان سے کئی احادیثِ مبارکہ مروی ہیں، اور صحابہ کرام اور امہات المؤمنین ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ جنگِ یمامہ سے واپسی کے کچھ عرصے بعد، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوئیں اور جنت البقیع میں دفن کی گئیں۔

#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعين 

❤️  

آپ ﷺ کے ساتھی,رضی اللہُ تعالیٰ عنہم,صحابی رسول ﷺ,companions of prothet Muhammad peace be upon him,رضی اللہ عنہ