حضرت ام عمارہ (رضی اللہ عنہا)

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

 

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تاریخِ اسلام کے عظیم ترین سپہ سالار، مایہ ناز جنگجو اور ایک بے مثل عسکری ذہن کے مالک تھے۔ وہ اپنی بے پناہ شجاعت اور جنگی حکمتِ عملی کی بدولت دنیا کے ان چند جرنیلوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی جنگ نہیں ہاری۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی بہادری اور غیر معمولی جنگی صلاحیتوں کو دیکھ کر انہیں "سیف اللہ" (اللہ کی تلوار) کا معزز لقب عطا کیا تھا۔

آپ رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی، قبولِ اسلام کا ایمان افروز واقعہ، عسکری خدمات اور وفات کی مکمل تفصیل درج ذیل ہے:


خالد بن ولید کا تعلق مکہ کے معزز اور قریش کے مایہ ناز جنگجو قبیلے بنو مخزوم سے تھا۔ ان کے والد ولید بن مغیرہ قریش کے چوٹی کے سرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ قبیلہ بنو مخزوم کے پاس قریش کی عسکری قیادت اور گھڑ سوار دستوں کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی، یہی وجہ تھی کہ حضرت خالد نے بچپن ہی سے فنِ سپہ گری، نیزہ بازی اور شہسواری میں بے پناہ مہارت حاصل کر لی۔

ابتدا میں وہ مسلمانوں کے سخت مخالف تھے اور انہوں نے اسلام کے خلاف کئی جنگوں میں حصہ لیا۔


 غزوۂ احد (3 ہجری) میں قریش کے سوار دستے کی قیادت انہوں نے ہی کی تھی اور ان کی ایک عسکری چال کی وجہ سے احد کا معرکہ مسلمانوں کے لیے شدید آزمائش میں بدل گیا تھا۔


حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا واقعہ بڑا دلچسپ ہے، جس کا پسِ منظر ان کے بھائی حضرت ولید بن ولید (جو پہلے اسلام لا چکے تھے) اور خود رسول اللہ ﷺ کے ایک جملے سے جڑا ہے


۔ یہ واقعہ سنہ 8 ہجری (629ء) کا ہے، یعنی فتح مکہ سے کچھ مہینے پہلے کا، جو درج ذیل مراحل میں پیش آیا:


سنہ 7 ہجری میں جب صلح حدیبیہ کے معاہدے کے تحت رسول اللہ ﷺ اور مسلمان "عمرہ قضا" کے لیے مکہ تشریف لائے، تو خالد بن ولید (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) مکہ سے باہر پہاڑیوں کی طرف چلے گئے کیونکہ وہ مسلمانوں کو عمرہ کرتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ اس سفر کے دوران رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید کے بھائی، حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا:

"خالد کہاں ہے؟ 


اس جیسا عقل مند انسان اسلام سے کیسے ناواقف رہ سکتا ہے! اگر وہ اپنی عسکری صلاحیتیں مسلمانوں کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف استعمال کرتا تو یہ اس کے لیے بہت بہتر ہوتا، اور ہم بھی اس کی قدر کرتے۔"


جب حضرت ولید نے اپنے بھائی خالد کو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے بارے میں خط لکھا، تو ان الفاظ نے خالد بن ولید کے دل پر گہرا اثر کیا۔


 وہ خود بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے وہ خط پڑھا، تو ان کا دل اسلام کی طرف مائل ہو گیا اور انہیں محسوس ہوا کہ وہ اب تک کتنی بڑی سچائی سے دور رہے ہیں۔ اسی زمانے میں انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک تنگ اور قحط زدہ زمین سے نکل کر ایک وسیع اور سرسبز و شاداب وادی میں داخل ہو رہے ہیں۔


خالد بن ولید نے مدینہ جانے اور اسلام قبول کرنے کا پکا ارادہ کر لیا۔ انہوں نے مکہ کے دیگر نوجوانوں سے بات کی کہ کوئی ان کا ساتھ دے۔


 بالآخر قریش کی ایک اور مایہ ناز شخصیت عثمان بن طلحہ ان کے ہمراہ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ جب یہ دونوں مکہ سے نکلے، تو راستے میں ان کی ملاقات حضرت عمرو بن العاص سے ہوئی، جو کہ خود بھی اسی مقصد کے لیے مدینہ جا رہے تھے۔ یوں یہ تینوں عظیم سوار ایک ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔


جب یہ قافلہ صفر 8 ہجری میں مدینہ منورہ پہنچا، تو رسول اللہ ﷺ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور صحابہ سے فرمایا: "مکہ نے اپنے جگر گوشے تمہاری طرف ڈال دیے ہیں (یعنی اپنے بہترین لوگ تمہارے پاس بھیج دیے ہیں)۔"

حضرت خالد بن ولید آگے بڑھے، حضور ﷺ کو سلام کیا اور کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ 


اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی: "یا رسول اللہ! میں نے ماضی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جتنی جنگیں لڑیں اور جو سختیاں کیں، آپ اللہ سے دعا فرما دیں کہ وہ میرے وہ تمام گناہ معاف فرما دے۔"


رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"اے خالد! اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"

پھر بھی حضرت خالد کے اصرار پر آپ ﷺ نے دعا فرمائی: "اے اللہ! خالد نے تیرے راستے کو روکنے کے لیے ماضی میں جو کچھ بھی کیا، اسے معاف فرما دے۔"

اہم ترین عسکری معرکے اور خدمات

اسلام لانے کے بعد حضرت خالد بن ولید نے اپنی پوری زندگی، صلاحیتیں اور عسکری مہارتیں دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر دیں۔


 انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں 100 سے زائد جنگوں میں حصہ لیا اور ہر معرکے میں اپنی جنگی مہارت کا لوہا منوایا۔ 


ان کے چند مشہور ترین معرکے درج ذیل ہیں:

غزوۂ موتہ (629ء): یہ بطور مسلمان ان کی پہلی بڑی جنگ تھی۔ جب تین مسلم سپہ سالار (حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر طیاّر اور حضرت عبداللہ بن رواحہ) باری باری شہید ہو گئے، تو نازک ترین وقت میں قیادت خالد بن ولید نے سنبھالی۔ انہوں نے ایسی زبردست عسکری حکمتِ عملی اپنائی کہ روم کی ایک لاکھ سے زائد فوج کے سامنے کم تعداد (صرف 3 ہزار) کے باوجود مسلم فوج کو بحفاظت نکال لائے۔ اسی جنگ کے بعد آپ کو "سیف اللہ" کا لقب ملا۔


فتنہ ارتداد کا خاتمہ (جنگِ یمامہ):


 رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد جب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں جھوٹے مدعیانِ نبوت (جیسے مسیلمہ کذاب) اور فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا، تو حضرت خالد بن ولید نے ان فتنوں کا جڑ سے خاتمہ کیا۔


سلطنتِ فارس (ایران) کی فتوحات:


 انہوں نے عراق کے محاذ پر ساسانی سلطنت کی طاقتور فوجوں کو پے در پے شکستیں دیں اور زنجیروں والی جنگ (معرکہ ذات السلاسل) اور معرکہِ ولاجہ جیسے بڑے معرکوں میں تاریخی فتوحات حاصل کیں۔


جنگِ یرموک (636ء): یہ تاریخِ اسلام کی اہم ترین جنگوں میں سے ایک ہے۔ حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں مسلم فوج نے بازنطینی (رومی) سلطنت کی ایک بہت بڑی اور مسلح فوج کو عبرتناک شکست دی، جس نے شام اور بیت المقدس کی فتح کے راستے کھول دیے۔


جنگی حکمتِ عملی اور منفرد انداز


خالد بن ولید کی جنگی چالیں اتنی غیر متوقع اور تیز ہوتیں کہ دشمن سنبھل ہی نہیں پاتا تھا۔ وہ نفسیاتی جنگ، تیز رفتار نقل و حرکت اور دشمن کے سب سے مضبوط حصے پر اچانک وار کرنے کے ماہر تھے۔


 ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ میدانِ جنگ کے حالات کے مطابق سیکنڈوں میں اپنا منصوبہ بدل لیتے تھے۔ وہ دشمن کی نفسیات کا گہرا مطالعہ کرتے تھے اور اکثر ایسی سمت سے حملہ کرتے تھے جہاں سے دشمن کو گمان بھی نہیں ہوتا تھا۔


حضرت خالد بن ولید کی شدید خواہش تھی کہ انہیں میدانِ جنگ میں شہادت نصیب ہو، لیکن اللہ کی تلوار کسی کافر کے ہاتھوں کیسے ٹوٹ سکتی تھی؟ چنانچہ ان کا انتقال 642ء میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں، حمص (شام) میں بسترِ علالت پر ہوا۔


وفات کے وقت انہوں نے انتہائی حسرت سے اپنے آخری الفاظ کہے جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے:


"میں نے اتنے معرکے لڑے کہ میرے جسم کا کوئی ایسا حصہ نہیں جہاں تلوار، نیزے یا تیر کا زخم نہ ہو، لیکن دیکھو! آج میں اونٹ کی طرح اپنے بستر پر مر رہا ہوں۔ خدا کرے بزدلوں کی آنکھوں کو کبھی نیند نہ آئے۔"

مکہ کا وہ جرنیل جس نے کبھی مسلمانوں کے لیے مشکلات کھڑی کی تھیں، اسلام قبول کرنے کے بعد دین کا سب سے مضبوط قلعہ ثابت ہوا اور تاریخِ عالم میں ہمیشہ کے لیے "اللہ کی مصلح تلوار" کے نام سے امر ہو گیا۔