- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
۸۰
ہجری کا ذکر ہے کہ ایک دن مدینہ منورہ میں کسی پکارنے والے نے کہا:”لوگو آج بحر الجوداس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔‘‘ اہل مدینہ کے کانوں میں اس آواز کا پڑنا تھا کہ ان میں حشر برپا ہو گیا ۔ مرد بچے بوڑھے غریب امیر غلام اور آقا سبھی دھاڑیں مار مار کر رورہے تھے۔ جناز اٹھا تو لوگ ہر طرف سے کندھا دینے کے لیے ٹوٹے پڑتے تھے۔ تابوت کے ساتھ دو لمبی لمبی لکڑیاں باندھ دی گئی تھیں لیکن اس قدر ہجوم تھا کہ ایک قدم چلنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ کسی نہ کسی طرح جنازہ جنت البقع پہنچایا گیا۔ والی مد ینہ ابان بن عثمان نے خود نماز جنازہ پڑھائی اور اپنے ہاتھوں سے میت کو آغوش لحد میں رکھا۔ پھر وہ قبر کے کنارے کھڑے ہو گئے اس وقت ان کی آنکھوں سے سیل اشک رواں تھا اور زبان پر یہ الفاظ تھے : ”خدا کی قسم تم بہترین آدمی تھے تم میں مطلق شر نہ تھا۔ تم شریف این شریف تھے۔ تم صلہ رحمی کرتے تھے تم لوگوں سے کسی غرض کے بغیر نیکی کرتے تھے تم بدکاروں کے دشمن تھے خدا تم پر رحمت نازل کرے بنو ہاشم تو تمہاری وفات سے غمزدہ ہیں ہی سارے قریش اور اہل مد پنہ کےکلیجے بھی تمہاری جدائی پرشق ہیں تم جیسا غریبوں کا غمگسار, بامروت دوست اور دلوں کی ڈھارس بندھانے والا مربی کہیں نظر نہیں آتا اللہ کے حضور پیش ہونے والے یہ صاحب جن کی موت نے تمام اہل مدینہ کو زلا دیا اور سیدنا عثمان غنی کے حاکم وقت صاحبزادے نے بھرے مجمع میں خدا کی قسم کھا کر جن کے اوصاف ومحاسن کی گواہی دی حضرت عبداللہ بن جعفر تھے۔ ان کے والد سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب تھے جو غزوہ موتہ میں نہایت بہادری سے لڑتے ہوۓ شہید ہوۓ اور’’طیار‘‘ اور ذوالجناحین‘‘ کے القاب سے نوازے گئے
سلسلہ نسب یہ ہے ۔
عبد اللہ بن جعفر طیار ذوالجناحین بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف ۔ والدہ کا نام اسماء بنت عمیس تھا۔ ان کا شمار نہایت جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ کے والد حضرت جعفر اور حضرت اسماء نے اس وقت اسلام قبول کیا جب ایسا کرنا مشرکین مکہ کو اپنے خون کا پیاسا بنانے کے مترادف تھا چنانچہ قبول اسلام کے بعد وہ بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح کفار کے ظلم وستم کا ہدف بن گئے ۔ جب مشرکین کی ستمرانیاں حد سے بڑھ گئیں تو حضور ﷺ کے ایما پر حضرت جعفر اور حضرت اسماء مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے جہاں وہ بارہ تیرہ برس تک غریب الوطنی کی زندگی گزارتے رہے۔
اور غزوہ خیبر کے موقع پر واپس تشریف لائے. حضور اکرم ﷺ کو ان کی واپسی پر بے انتہا خوشی ہوئی آپ ﷺ نے فرط جذبات سے حضرت جعفر رضی اللہُ عنہ کی پیشانی جو م کر فرمایا " معلوم نہیں مجھے جعفر کے آنے سے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا خیبر کی فتح سے ". اس وقت حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی عمر سات آٹھ برس کی تھی آپ ﷺ نے ان کو دیکھا تو گلے لگایا اور مسکراتے ہوئے ان سے بیعت لی.
حضرت جعفر کی شہادت
غزوۂ موتہ میں حضرت جعفر کی شہادت کی خبر ملی توآپ ﷺ خود انکے گھر تشریف لے گئے اور ان کے گھر والوں کو انکی شہادت کی خبر دی. مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس موقع پر تین مرتبہ دعا مانگی الہی تو جعفر کے اہل وعیال کی سر پرستی فرما اور عبداللہ کے داہنے ہاتھ کے کاروبار میں برکت دے حافظ ابن حجر نے ’’الاصابہ میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ کا ہاتھ پکڑ کر دعا کی : الٰہی اس کو جعفر کا صیح جانشین بنا اس کی بیعت میں برکت عطا فرما اور میں دنیا اور آخرت دونوں میں آل جعفر کا ولی ہوں ایک اور روایت میں خود حضرت عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ کی شہادت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اور میرے بھائیوں کو لے کر مسجد نبوی میں تشریف لے گئے اور درد وغم بھری آواز میں مسلمانوں کو حضرت جعفر ﷺ کی شہادت کی خبر سنائی ۔ پھر آپ ﷺ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور اپنے ساتھ کھانا کھلایا۔ تین روز تک ہم وہیں کھانا کھاتے رہے اور حضور ﷺ ہمارے گھر تشریف لاتے رہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی کم عمری اور یتیمی کی وجہ سے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر غیرمعمولی شفقت فرماتے تھے۔ پھر وہ یوں بھی حضور ﷺ کے بھتیجے تھے اور نہایت پسندیدہ عادات و خصائل کے مالک تھے۔
عبداللہ خلقا اور خلقا مجھ سے مشابہ ہے
ظاہری حسن و جمال کے لحاظ سے بھی اپنی نظیر آپ تھے اس لیے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ ”عبداللہ خلقا اور خلقا مجھ سے مشابہ ہے ایک دن حضرت عبد اللہ کسی جگہ بیٹھ کرمٹی کے کھلونے بنارہے تھے اتفاقا ادھر سے سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے پوچھا :عبد اللہ کیا بنا تے ہو؟
عبدالله کھلونے بناتا ہوں
رسول اکرم : ان کا کیا کرو گے؟
عبد اللہ بیچوں گا.
رسول اکرم ﷺ اور ان کے دام کس کام میں لاؤ گے؟‘ عبداللہ خر مے خریدوں گا اور کھاؤں گا ۔
اس پر آپ ﷺ نے خوش ہوکر دعا کی حضور سیر کو نوعمر عبد اللہ کے معصومانہ جواب پسند آۓ اور آپ نے یہ دعا دی
الہی اس بچے کے ہاتھ کے کام میں برکت دے
متدرک حاکم‘‘ میں ہے کہ ایک دن حضرت عبد اللہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے۔ آپ ﷺ کی نظر عبداللہ پر پڑی تو انہیں اپنے پاس بلایا اور نہایت شفقت کے ساتھ اپنی سواری پر بٹھالیا۔
رسول اللہ کی وفا ت کے بعد حضرت عبداللہ کی کفالت
جب سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی تو حضرت عبد اللہ اپنے چچا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نگرانی وسر پرستی میں آ گئے ۔انہوں نے بھی نہایت محبت اور شفقت کے ساتھ حضرت عبد اللہ کی تربیت فرمائی۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر کی از دواجی زندگی
جب آپ سن بلوغ کو پہنچے تو حضرت علی نے اپنی لخت جگر حضرت زینب کا نکاح ان سے کر دیا۔ یہ واقعہ حضرت عمر فاروق کے دور خلافت کا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن جعفر کی از دواجی زندگی انتہائی خوشگوار تھی اور وہ فرمایا کرتے تھےزینب بہترین گھر والی ہے۔ آپ کے دو صاحبزادوں نے میدان کربلا میں اپنے ماموں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ جام شہادت نوش کیا
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا اثر
حضرت عبد اللہ نے عہد فاروقی ہی میں تجارت کو اپنا ذریعہ معاش بنالیا تھا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا اثر تھا کہ مٹی میں بھی ہاتھ ڈالتے تو وہ سونا بن جاتی تھی ۔ اس طرح وہ نہایت تو نگر اور آسودہ حال ہو گئے لیکن جس قدران کے پاس مال و دولت کی فراوانی تھی وہ اس سے کہیں زیادہ کشاد و دست اور فیاض تھے۔ ناممکن تھا کہ کوئی سائل یا حاجت مند ان کے دروازے پر آۓ اور خالی ہاتھ چلا جائے ۔ ان کی جودوسخا کا یہ عالم تھا کہ کئی غیرمستحق لوگ بھی ان کے دست کرم سے فائدہ اٹھا لیتے تھے۔ ایک مرتبہ سید ناحسین بن علی نے ان سے کہا: ”اے ابن عم ! تمہارے جود و کرم سے غیر مستحق لوگ بھی تمہاری کمائی میں شریک ہو جاتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ نے جواب دیا: ”جان برادر کیا کروں سائل کو دیکھ کر دل قابو میں نہیں رہتا اللہ نے مجھے دولت اس لیے دی ہے کہ اس کے بندوں میں بانٹوں ۔ اپنی بے مشل فیاضی اور سیر چشمی کی بدولت حضرت عبد اللہ ﷺ ’’ بحر الجوڈ ( سخاوت کا سمندر ) کے لقب سے مشہور ہو گئے تھے۔ تاریخ میں ان کی دریا دلی اور فیاضی کے بیشمار واقعات بیان کیے گئے ہیں ۔ انہیں پڑھ کر لا محالہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ وہ فی الواقع’’بحرالجود‘‘ کے لقب کے حقیقی معنوں میں مستحق تھے مؤرخین نے لکھا ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے عہد میں حضرت عبد اللہ بن جعفر یا خاموشی سے اپنے کاروبار میں مشغول رہے لیکن بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عبد اللہ نے عہد فاروقی اور عہد عثمانی کے بعض معرکوں میں ایک مجاهد في عمل اللہ کی حیثیت سے جانبازانہ حصہ لیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا دور خلافت آیا تو حضرت عبد اللہ ان کے پر جوش دست و بازو ثابت ہوۓ اور جنگ صفین میں شامی فوج کے خلاف خوب داد شجاعت دی
حضرت عبد اللہ بن جعفر کے محاسن اخلاق
ارباب سیئر نے حضرت عبد اللہ بن جعفر کے محاسن اخلاق کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے اور اخلاقی اعتبار سے انہیں بہت بلند پاشخصیت قرار دیا ہے ۔ حافظ ابن عبدالبر نے ’’الاستیعاب‘‘ میں لکھا ہے کہ عبد اللہ بن جعفر نہایت ، حلیم الطبع ، برد بار فیاض عفیف پاک دامن، خوش مزاج اور کریم النفس تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی یہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن جعفر کی سخاوت حلم اور کرم و عطا کے واقعات اتنے کثیر ہیں کہ ان کا احاطہ کر ناممکن نہیں کہا جا تا ہے کہ زمانہ اسلام میں عرب کے اندر دس اشخاص نے فیاضی میں شہرت عام حاصل کی ۔ حضرت عبد اللہ ان دس میں شامل ہی نہ تھے بلکہ امتیازی شان کے حامل تھے۔ ایک دفعہ ان کی اعتدال سے بڑھی ہوئی فیاضی اور جودوسخا پر کسی نے ٹو کا تو خواب دیا کہ اللہ نے اسے میری عادت بنا دیا ہے اگر میں اسے چھوڑ دوں تو اندیشہ ہے کہ اللہ مجھے چھوڑ دے گا اس لیے کہ فیاضی در حقیقت مخلوق نوازی ہے اور مخلوق اللہ کا کنبہ ہے جو اس سے بہتر سلوک کرتا ہے اللہ بھی اس سے بہتر سلوک کرتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے ’’الا صابہ‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک تاجر تجارت کی غرض سے بہت سی شکر لے کر مدینہ منورہ آیا۔ اتفاق سے اس وقت بازار سرد تھا۔ گھانے کے خیال سے تاجر کا دل ڈوب گیا۔ مدینہ کے بعض لوگوں کے پاس جاکر رویا دھویا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ میاں اس طرح ہلکان ہو نے سے کچھ فائدہ نہیں تم عبد اللہ بن جعفر کے پاس جاؤ اور ان کو اپنا قصہ درد سناؤ۔ شاید وہ تمہاری مشکل کا کوئی حل نکال دیں ۔ تاجر حضرت عبد اللہ بن جعفر کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو افتاد اس پر آن پڑی تھی اس کا حال انہیں سنایا۔ حضرت عبد اللہ نے اس کی کہانی سن کر فر مایا:’’ تم اپنی ساری شکر یہاں لے آؤ۔‘‘ وہ شکر لے کر آیا تو حضرت عبد اللہ نے اپنے گھر کے سامنے ایک بڑا سا فرش بچھوا کر تاجر سے کہا کہ تمام شکر اس پر ڈھیر کر دو ۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اب حضرت عبد اللہ نے مدینہ میں اعلان کرادیا کہ جس کو شکر کی ضرورت ہو وہ ہمارے یہاں سے بلا قیمت لے جاۓ ۔ یہ اعلان سن کر لوگ شکر پر ٹوٹ پڑے اور تھوڑی ہی دیر میں ساری شکر لوٹ لی ۔خوداس تاجر نے بھی حضرت عبداللہ کا ایماء پاکر اس لوٹ میں حصہ لیا اور کچھ خالی بورے بھر لیے۔ جب یہ ہنگامہ ختم ہو چکا تو حضرت عبد اللہ نے تاجر سے شکر کی قیمت پوچھی۔ اس نے چار ہزار درہم بتائی ۔ حضرت عبد اللہ نے نہایت خوشدلی سے اس کو رقم ادا کر دی اور وہ ان کو دعائیں دیتا ہوا رخصت ہوا۔ ایک مرتبہ ایک بدوی شاعر حضرت عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے یہ اشعار پڑھے: ”میں نے خواب دیکھا کہ ابوجعفر ( حضرت عبد اللہ کی کنیت ) نے مجھے حریر کی قبا پہنائی ہے۔ جب بہت سے دن گزر گئے اور اس خواب کی تعبیر ظاہر نہ ہوئی تو میں نے ایک دوست کے سامنے اپنا خواب بیان کیا۔ اس نے کہا کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ یہ خواب حقیقت کا جامہ نہ پہنے کیونکہ ابو جعفر جن کو تو نے خواب میں دیکھاہے ان کا ابر کرم تو سارے زمانے پر برس رہا ہے خود فیاضی کو انہوں نےحکم دے رکھا ہے که خبر دار مجھ سے آگے نہ بڑھنا ۔ حضرت عبد اللہ ﷺﷺ نے بدوی کے اشعار سنے تو اس کا منشا سمجھ گئے ۔ اس وقت اپنے خادم کو حکم دیا کہ اندر سے ان کی حریر کی قبالا کر بدوی شاعر کو پہنا دے ۔ بدوی قبا پہن کر چلنے لگا تو مسکرا کر اس سے فرمایا: ’’مگر بھائی تم نے خواب میں میری وہ زریشت کی قبا کیوں نہ دیکھی جو میں نے تین سودبنار میں خریدی تھی اور اس حریر کی قبا سے کہیں زیادہ قیمتی ہے ۔ بدوی شاعر بھی بڑا حاضر جواب تھا اس نے ہنتے ہوۓ کہا: ’’ اسے حفاظت سے رکھے گا۔ ان شاءاللہ آئیندہ اس کو خواب میں دیکھوں گا۔‘‘ ایک مرتبہ ایک بوڑھے حبشی شاعر نے حضرت عبد اللہ سے کچھ وصول کر نے کے لیے ان کی شان میں قصیدہ پڑھا۔ انہوں نے اس کے صلے میں اس کو بہت سے گھوڑے اونٹ کپڑے اور درہم و دینار عطا فرماۓ ۔ کسی نے کہا کہ یہ معمولی حبشی تو اتنے انعام کا مستحق نہ تھا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا: یہ تو ضرور ہے کہ یہ ایک سیاہ فام شخص ہے لیکن اس کے بال سفید ہو چکے ہیں ۔ اس اعتبار سے وہ اس سے بھی زیادہ کا مستحق ہے سچ تو یہ ہے کہ میں نے اسے جو کچھ دیا ہے وہ تھوڑی مدت میں ختم ہو جائے گا لیکن اس نے جواشعار کہے ہیں وہ ہمیشہ باقی رہیں گے اور ان کی شادابی کم نہ ہوگی ۔“ مستدرک حاکم میں ہے کہ ایک عراقی شاعر زیاد بن انجم کو پانچ مرتبہ خون بیا (دیت ) دینے کا اتفاق پیش آیا۔ اس میں اتنی استطاعت نہیں تھی کہ خودخون بہا ادا کر سکتا اس لیے پانچوں مرتبہ حضرت عبداللہ سے امداد کا خواستگار ہوا۔ انھوں نے ہر دفعه خندہ پیشانی سے اس کی طرف سے خون بہا کی خطیر رقم ادا کر دی۔
ایک دفعہ ایک غریب بدوی نے حضرت عبداللہ کے پاس اونٹ بیچا۔ ان کو ضرورت تو نہیں تھی لیکن بدوی کی کفالت کے خیال سے خرید لیا۔ بدوی بھی ان کے مزاج سے واقف تھا۔ اس نے وقفہ وقفہ سے تین بار اونٹ کی قیمت وصول کی وہ سب کچھ جاننے کے باوجود از راہ مروت ہر دفعہ قیمت دے دیتے تاہم جب وہ تیسری بار قیمت وصول کر کے جانے لگا تو مسکرا کر فرمایا: ”بھائی تم تین مرتبہ اپنے اونٹ کی قیمت وصول کر چکے ہو۔‘‘ بدوی کواب چوتھی مرتبہ اس مقصد کے لیے ان کے پاس آنے کی ہمت نہ پڑی۔
حضرت علی کے عہد خلافت میں ایک دفعہ ایک بڑے زمیندار نے اپنے کسی معاملہ میں انہیں امیرالمؤمنین سے گفتگو کے لیے بھیجا۔ انہوں نے ایسے مدلل طریقے سے بات کی کہ اس زمیندار کے حق میں فیصلہ ہو گیا۔ اس نے شکرانے کے طور پر انہیں چالیس ہزار کی رقم بھیجی ۔ حضرت عبداللہ نے یہ رقم قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اسے واپس کرتے ہوۓ فرمایا‘ ’’ہم اپنے احسان کو بچانہیں کر تے ‘‘ حضرت عبد اللہ اگر چہ ایک کامیاب تاجر تھے اور ان کی آمدنی نہایت کثیر تھی لیکن ان کی جودوسخا اور داد و دہش کی بھی کوئی حد ونہایت نہیں تھی ۔ اس وجہ سے کئی با رقرض لینے کی نوبت آ جاتی تھی۔ ابن اثیر ﷺﷺ کا بیان ہے کہ حضرت زبیر بن العوام نے شہادت پائی تو ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن زبیر نے عبداللہ بن جعفر سے کہا کہ والد کی یادداشتوں میں دس لاکھ کا قرض آپ کی طرف نکلتا ہے۔انہوں نے جواب دیا‘ ’’ بے شک زبیر کا دس لاکھ میرے ذمہ ہے تم جب چا ہو مجھ سے وصول کر لو ‘‘ حضرت عبداللہ بن جعفر تمام عمر اپنی فیاضی اور سخاوت کو کمال وضعداری سے نھباتے رہے۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ آخری عمر میں جب ان کا کاروبار ماند پڑ گیا۔ دوسری طرف عبد الملک بن مروان نے ان کا وظیفہ بند کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی مالی حالت پتلی ہوگئی۔ انہیں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی تو کوئی فکرنہیں تھی البتہ مخلوق خدا کی دل کھول کر خدمت نہ کر سکنے کا بڑا اقلق تھا۔ دل شکستگی کے عالم میں ایک جمعہ کو نماز کے بعد بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ دعا مانگی کہ ، انہی تو نے مجھے ایک ایسی عادت ڈال دی جو مجھ سے کبھی ترک نہ ہو سکی۔ اب اس کی قدرت نہیں رہی تو مجھے دنیا میں رکھنےکی بجاۓ اپنے پاس بلا لے۔ صدق قلب سے نکلی ہوئی یہ دعا فورا دراجابت پر پہنچی اور اگلے جمعہ کو اہل مدینہ نے ان کی وفات کی ولدوز خبر سن لی ۔
رضی اللہ تعالی عنہ
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس