- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
حضرت حسان بن ثابت
(شاعر صحابی انصاری صحابی)
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ دربار رسول ﷺ کے سب سے بڑے شاعر اور مداح تھے۔
ان کا حسب و نسب
باپ کا نام ثابت بن منذر تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے۔ والدہ فریعہ بنت خالد خزرج کے خاندان بنو ساعدہ سے تھیں اور رئیس خزرج حضرت سعد بن عبادہ کی بنت عم تھیں اور صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت حسان کا لقب شاعر رسول اور کنیت ابو الولید، ابوالحسام اور ابو عبد الرحمن بتائی جاتی ہیں۔
( انساب الاشراف - انصار - اسد الغابہ - طبقات )
آپ کے خاندان کی خصوصیت
حضرت حسان بن ثابت کے خاندان میں ایک ایسی خاص بات تھی جو کسی دوسرے خاندان میں نہیں تھی آپ کے باپ دادا اور پڑدادا بھی شاعر تھے اور بیٹے اور پوتے بھی۔ اس خاندان کو طویل العمری کی وجہ سے بھی منفرد مقام حاصل تھا۔ حضرت حسان کے پڑدادا کی عمر ایک سو بیس سال تھی ۔ دادا کی عمر بھی ایک سو بیس سال، باپ" کی عمر بھی ایک سو بیس سال اور حضرت حسان کی عمر بھی ایک سو دس سال تھی۔
(اصابہ سیر الصحابه)
حضرت حسان کا اسلام لانا
حضرت حسان نے طویل عمر گزارنے کے بعداسلام قبول کیا ہجرت نبوی کے وقت حضرت حسان کی عمر ساتھ یا پیٹھ سال تھی۔ حضور ﷺ مدینہ تشریف لائے تو حضرت حسان نے اسلام قبول کیا۔
(تہذیب التہذیب اسد الغابہ اصابه طبقات)
قبول اسلام سے پہلے حضرت حسان کی زندگی
آپ بہت بڑے شاعر تھے اور اوس اور خزرج کی باہمی جنگوں میں اپنے قبیلے کی تعریف میں شعر کہتے اور جوش دلاتے ۔ عہد جاہلیت میں دوسرے شعراء کی طرح شراب کے بھی رسیا تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد یہ عادت ترک کردی اور شاعری بھی اسلام کیلئے وقف ہوگئی۔
اور آپ ﷺکے ساتھیوں میں شامل ہو گےء اور انہوں نےجہاد باللسان کیا۔ حضور کے حکم پر حضرت ابوبکر سے مشورہ کرلیا کرتے تھے کیونکہ حضرت ابوبکر انساب عرب سے واقف تھے۔ (تہذیب التہذیب ۔ سیرۃ ابن ہشام - الغابہ )
حضرت حسان بن ثابت کا شاعری میں مقام
شعر و ادب کی اصطلاح میں آپ کو محضر می شاعر کہا جاتا کیونکہ آپ نے جاہلیت کا زمانہ بھی پایا اور اسلام بھی قبول کیا۔ ان کے اشعار میں پندو نصائح اور حکمت و دانائی کی باتیں بھی ہیں۔ دیوان حسان کئی زبانوں میں چھپ چکا ہے۔ آپ نے مرٹیے بھی کہے۔
(الغابه اصابه - سیر الصحابة )
غزوات میں شرکت
حضرت حسان بن ثابت نے غزوات میں رسول اللہ کے ہمرکاب رہے اگر چہ آپ تمام غزوات میں حضور کے ساتھ ہوتے تھے۔ لیکن جنگ میں عملاً ان کی شمولیت کا بہت کم ثبوت ملتا ہے۔ کیونکہ وہ دل کے کمزور تھے۔ اس لئے تلوار سے جہاد نہ کر سکے لیکن اپنے اشعار کے ذریعے ہر موقع پر مجاہدین کو جوش دلاتے رہے۔ غزوہ خندق میں انہیں خواتین کی نگرانی کیلئے مقرر کیا گیا تھا لیکن جب ایک یہودی اس قلعے کی طرف آیا تو آپ اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔ چنانچہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے اسے قتل کیا۔
(تہذیب التہذیب - اصابه - اسد الغابہ )
حضرت حسان رضی اللہ عنہ کا اسلام لانے کے بعد مقام
رسول اللہ کے حکم ان کے لئے منبر بچھایا جاتا اور وہ اس پر کھڑے ہو کر یا بیٹھ کفار کی ہجو کرتے اور آقا کی شان میں مدح سرائی کرتے ۔ تمام غزوات اور اہم موقعوں پر بھی آپ نے نہایت پر جوش اشعار کہے۔
(طبقات - البداية والنهاية - اسد الغابه )
رسول اللہﷺ حضرت حسان بن ثابت کی بہت حوصلہ افزائی فرماتے آپﷺ ان کے اشعار کی تعریف فرماتے، انہیں دعائیں دیتے اور مشرکین کی خرافات کا جواب دینے کا حکم دیتے۔
و ہجری میں بنو تمیم کا وفد حضور کے پاس آیا۔ ان کے شاعر زبرقان بن بدر نے قوم کی تعریف کی۔ حضرت حسان نے اس کا جواب دیا تو رئیس بنو تمیم اقرع بن حابس نے حضرت حسان کی تعریف کرتے ہوئے بے اختیار یہ الفاظ کہے
محمد ! مجھے میرے باپ کی قسم تمہارا شاعر ہمارے شاعرسےاچھا ہے بعد میں زبرقان اور اقرع دونوں مسلمان ہو گئے تھے۔
حضرت حسان کا حضور سے رشتہ
والی مصر مقوقس نے حضور کی دعوت تبلیغ کے جواب میں حضرت حاطب کے ساتھ تحالف اور دو قبطی بہنیں ماریہ اور سیر بن بھی بھیجیں جو مسلمان ہو گئیں ۔ حضور نے حضرت ماریہ کو اپنے حرم میں داخل فرمایا اور حضرت سیرین کی شادی حضرت حسان کے ساتھ ہوئی اس طرح حضرت حسان حضور ﷺ کے ہم زلف ہو گئے
( سيرة ابن ہشام - سيرة ابن اسحاق زاد المعاد )
وفات اور اولاد
آپ نے حضرت امیر معاویہ کے عہد میں ۵۴ ہجری میں طویل العمر ی کے بعد ایک سو دس سال کی عمر میں وفات پائی۔ ایک فرزند عبد الرحمن پیچھےچھوڑا
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس