- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
قدرت کے بھید نرالے ہیں۔ بعثت نبوی ﷺ سے تقریباً نصف صدی پہلے یمن کا ایک گمنام باشندہ اپنے ایک مفقود الخبر بھائی کی تلاش میں اپنے دو بھائیوں کے ساتھ مکہ پہنچتا ہے گم شدہ بھائی وہاں نہیں ملتا تو اس کے دونوں بھائی مایوس ہو کر اپنے وطن کو لوٹ جاتے ہیں۔ لیکن اس شخص کے پاؤں سرزمین مکہ پکڑ لیتی ہے اور وہ وہیں مستقل اقامت اختیار کر لیتا ہے۔ اس جگہ اللہ تعالی اس کو وہ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے کہ اس کا نام صفحہ تاریخ پر نقش جاوداں بن کر ثبت ہو جاتا ہے۔ یہ گمنام اور غریب الدیار شخص جنہوں نے راہ حق میں اپنی جان سپاری کی بدولت شہرت عام اور بقائے دوام کا تاج پہنا حضرت یا سیر بن عامر تھے۔
سید نا حضرت ابو عامر یا سیر بن عامر قحطانی النسل اور یمن کے باشندےتھے۔ سلسلہ نسب یہ ہے۔
یاسر بن عامر بن مالک بن کنانہ بن قیس بن حصین بن ودیم بن ثعلبہ بن عوف بن حارثہ بن عامر الاکبر بن یام بن عفس بن مالک بن اور بن يشجب بن عريب بن زيد بن كهلان بن سبا بن يشجب بن يعرب قحطان
حضرت یاسر رضی اللہُ عنہ کا ایک بھائی جس سے وہ بے پناہ محبت کرتے تھے کہیں غائب ہو گیا۔ اپنے علاقے کا چپہ چپہ اس کی تلاش میں چھان مارا لیکن وہ نہ ملا۔ آخر اپنے دو بھائیوں مالک اور حارث کو ساتھ لے کر برادر گم گشتہ کی تلاش میں مکہ پہنچے۔ یہ بعثت نبوئی ﷺ سے پینتالیس برس پہلے کا واقعہ ہے۔ بھائی یہاں نہ ملا تو مالک اور حارث تو مایوس ہو کر اپنے وطن واپس چلے گئے لیکن یا سر نے بنو مخزوم کے ایک رئیس ابو حذیفہ بن مغیرہ سے حلیفانہ تعلق قائم کر کے مکہ ہی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ابو حذیفہ نے اپنی ایک نیک بخت لونڈی سمیہ بنت خباط سے
یا سر کی شادی کر دی۔ اس کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دو فرزند عطا کیے۔ عمار اور عبد اللہ ۔ یہ سارا کنبہ ابو حذیفہ بن مغیرہ کے ساتھ رہتا تھا۔ ابن سعد کا بیان کا ہے کہ جب تک ابو حذیفہ حیات رہا وہ یا سر اور ان کے اہلِ خاندان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا رہا۔ اس کی وفات کے بعد مکہ میں خورشید رسالت ﷺ طلوع ہوا تو یا سر, سمیہ ، عمار اور
عبد اللہ سب سعادت اندوز ایمان ہو گئے۔ اس وقت تک صرف پینتیس نفوس نے قبول اسلام کا شرف حاصل کیا تھا۔ جوں جوں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا تھا، مشرکین قریش کے قہر و غضب کی آگ بھی تیز ہوتی جاتی تھی۔ حضرت یاسر اور ان کے اہلِ خاندان کا قبول اسلام مشرکین بالخصوص بنو مخزوم پر سخت شاق گزرا۔ اللہ کے یہ چاروں پاکباز بندے غریب الدیار اور بے سہارا تھے۔ بنو فخروم نے ان سب کو اپنی مشق ستم کا نشانہ بنالیا اور ان پر ظلم وستم کے ایسے پہاڑ توڑے کہ انسانیت سر پیٹ کر رہ گئی۔
جبارہ بنی مخزوم ان چاروں مظلوموں پر نت نئے ستم ڈھاتے تھے۔ وہ انہیں لاتوں گھونسوں اور لکڑیوں سے اتنا پیٹتے کہ وہ بے ہوش جاتے جب ہوش میں آتے تو ان سے پوچھتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دین کو ترک کرو گے یا نہیں؟ چاروں جواب دیتے محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و سلم پر ہماری ہزار جانیں قربان ظالم کبھی انہیں جھلساتی ہوئی ریت پر لٹاتے کبھی لوہے کی زر ہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیتے وہ چاروں نفوس قدسی نشہ توحید میں کچھ ایسے مخمور ہوئے تھے کہ جادۂ حق سے ہٹنے کا نام بھی نہ لیتے تھے۔ طبرانی نے حضرت عثمان رضی اللہُ عنہ کے بیان سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک دن جب وہ چاروں کفار کے ہاتھوں لرزہ خیز اذیتیں جھیل رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا۔ ان مظلوموں کو مبتلائے اذیت دیکھ کر آپ ﷺ کا دل بھر آیا اور آپ ﷺ نےفر مایا صبر کرواے آل یاسر ! تمہارے لیے جنت کاوعدہ ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مقام سے گزرا جہاں اس خاندان کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا ” صبر کرو الہی آل یاسر کی مغفرت فرمادے اور تو نے ان کی مغفرت کر ہی دی۔
حضرت سمیہ کو ابھی بنومخزوم نے آزاد نہیں کیا تھا اور وہ ابو جہل، عمرو بن ہشام محرومی کی چاکری کرتی تھیں۔ ابو جہل اسلام لانے کے جرم میں انہیں سخت اذیتیں دیتا رہتا تھا۔ ایک دن اس قدر غضبناک ہوا کہ اپنا بر چھا حضرت سمیہ کو کھینچ مارا۔ وہ اسی وقت زمین پر گر گئیں اور جام شہادت پی کر فردوس بریں کو سدھاریں۔
پھر ایک دن بدبخت نے تیر مار کر حضرت عبداللہ بن یاسر کو شہید کر ڈالا ۔
بوڑھے اور ناتواں حضرت یاسر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کب تک یہ لرزہ خیز اذیتیں سہتے، جلد ہی وہ بھی خالق حقیقی کے حضور پہنچ گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ کفار نے انہیں بھی برچھی مار کر شہید (اسد الغابہ )کر دیا تھا
اور بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت سمیہ اور حضرت عبداللہ کو حضرت یاسر کی وفات ( شہادت) کے بعد شہید کیا گیا۔ صورت واقعہ کچھ بھی ہوان مظلوموں نے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں۔
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
حضرت عمار پر بھی مشرکین نے بے پناہ مظالم ڈھائے۔ کبھی انہیں گرم سلاخوں سے داغا، کبھی انگاروں پر لٹایا کبھی پانی میں غوطے دیئے لیکن وہ سخت جان کسی نہ کسی طرح بچ گئے اور اکانوے برس کی عمر پا کر جنگ صفین میں (36۶ ہجری)شہید ہوئے ۔ ان کی پشت پر سیاہ لکیریں اور انگاروں سے جلنے کے داغ ساری موجود رہے۔ یہ راہِ حق میں مصیبتیں جھیلنے کی یادگار ہی نہیں بلکہ ان کے لیے زریعہ مغفرت بھی تھے۔
رضی اللہ تعالی عنہم
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
