حضرت ام عمارہ (رضی اللہ عنہا)

حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ

حضرت خباب رضی اللہ عنہ

حضرت خباب بن الارت بن جندله بن سعد بن خزیمہ ۔ وہ تمیمی تھے اور ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی ۔

 ایک روایت کے مطابق مکہ میں انہیں عتبہ بن غزوان نے خریدا۔ دوسری روایت کے مطابق وہ ام انمار بنت سباح الخزاعیہ کے غلام تھے اور یہی روایت زیادہ صحیح ہے۔

(اصابه استیعاب - اسد الغابه )

وہ تلواریں بنا کر بیچتے تھے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان لے آئے۔سابقون الاولون تھے چھٹے نمبر پر اسلام لانے کی وجہ سے سادس الاسلام کہلائے

( طبقات - سیر الصحابة - اسوه صحابه )

    کفار ان پر بہت ظلم ڈھاتے ان کے کپڑے اتروا کر دیکتے ہوئے انگاروں پر لٹا دیتے۔ اوپر بھاری پتھر رکھ دیتے یا ایک قومی ہیکل آدمی ان کے سینے پر بیٹھ جاتا۔ ان کی آقا ام انمار بھی ان کو لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں لٹاتی اور کبھی تپتے ہوئے لوہے سے ان کا سرداغا کرتی ۔

رسول اللہ حضرت خباب بن الارت کو اس حا ل میں دیکھتے توان کو صبر کی تلقین فرماتے تھے

:آپ ﷺ فرماتے " تم سے پہلے زمانے میں ایسے لوگ بھی ہوئے ہیں کہ لوہے کی کنگھیوں سے ان کا گوشت نو چا گیا۔ سوائے ہڈیوں اور پٹھوں کے کچھ نہ چھوڑاگیا۔ ایسی سختیوں نے بھی ان کا دین پر اعتماد متزلزل نہ کیا۔ ان کے سروں پر ارے چلائے گئے۔ چیر کر بیچ سے دو کر دیئے گئے تاہم دین کو نہ چھوڑا ۔ اللہ اس دین کو ضرور کامیاب کرے گا "۔

(طبقات اسود صحابته اصابه )

حضرت خباب کی آقا ام انمار نے ظلم کی انتہا کر دی توانہوں نے حضورﷺ  کی خدمت میں حاضر کر عرض کیا: یا رسول اللہ سے  دعا فرمائیے اللہ تعالیٰ مجھے اس عذاب سے نجات دے۔

(اسد الغابہ - سیر الصحابہ - طبقات)

 آ پ ﷺ نے دعا فرمائی الہی خباب کی مدد کر ۔ دعا قبول ہوئی۔ ام انمار کو  "سر میں شدید درد شروع ہو گیا۔ وہ کتے کی طرح بھونکتی۔ اس کے سر کو گرم لوہے سے داغا جاتا۔ مگر افاقہ نہ ہوا اور چند دنوں کے بعد وہ تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ (اسد الغابہ ۔ تمہیں پروانے )

مشرکین نے حضرت خباب کو بہت مالی نقصان پہنچایا ان سے روپیہ پیسہ لیتے اور واپس نہ کرتے۔ مشہور مشرک عاص بن وائل نے ان سے قرض لیا اور واپسی کا تقاضا کرنے پر کہتا ” جب تک تم محمد کا دین ترک نہ کرو گے ایک کوڑی بھی نہ دوں گا۔

- (طبقات - اصاب - سیر الصحابة )

 حضرت خباب اس  سے فرماتے  جب تک تم دوبارہ زندہ ہو کر اس دنیا میں نہ آؤ گے میں محمدﷺ  کا دامن نہیں  " چھوڑوں گا۔

 عاص بن وائل انہیں جواب میں کہتا تو پھر انتظار کرو۔ جب میں مرکر دوبارہ زندہ ہوں گا اور اپنے مال اور اولاد پر تصرف کروں گا تو تمہارا قرضہ چکادوں گا۔

ہجرت مدینہ کے بعد حضور نے مدینہ منورہ میں مؤاخات قائم کی تو حضرت خراش بن صمہ کے غلام حضرت تمیم کے ساتھ یا حضرت جبیر بن عتیک کو ان کا دینی بھائی بنایا۔

حضرت عمر کے اسلام لانے کے واقعہ میں بھی حضرت خباب کا ذکر ملتا ہے

حضرت خباب حضرت عمر کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ان کے خاوند حضرت سعید بن زید کے گھر انہیں قرآن پاک پڑھانے جایا کرتے تھے۔ جب بہن بھائی میں تکرار اور حضرت عمرؓ کے ہاتھوں بہن بھی زخمی ہو گئی تو عمر نرم پڑ گئے اور ان سے قرآن سنانے کو کہا۔ سورۃ طہ کی چند آیات سنی تھیں کہ ان کے دل کی دنیا بدل گئی۔ انہوں نے کہا مجھے محمد کی خدمت میں لے چلو ۔ عین اس وقت حضرت خباب جو چھپے ہوئے تھے باہر نکل آئے اور خوشی سے کہا: اے عمر ! میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ کل شب پنجشنبہ میں حضورﷺ  نے دعا مانگی تھی کہ الہی عمر اور ابوجہل میں جو تجھے پسند ہو اس سے اسلام کو قوت عطا فرما۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺکی دعا تمہارے حق میں قبول ہوگئی۔

 آخری عمر میں کوفہ میں مقیم ہو گئے تھے۔ وہیں ۳۷ ہجری میں پیٹ کی شدیدتکلیف میں مبتلا ہو کر وفات پائی۔

          رضی اللہ عنہم