حضرت ام عمارہ (رضی اللہ عنہا)

کلید بردار کعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

  حضرت عثمان بن طلحہ عبدری رضی  الله عنہ کو کلید بردارکعبہ ہو نے کا شرف حا صل ہے 

کلید بردار کعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

فتح مکہ ( ۲۰ رمضان المبارک ۸ ہجری) کے دن چشم فلک نے ایک تحیر خیز منظر دیکھا۔ وہی مکہ معظمہ جس سے تقریباً آٹھ سال پیشتر سرور کائنات فخر موجودات

 سید الانام صلی اللہ علیہ وسلم صرف دور فیقوں ( حضرت ابوبکر صدیق  اور حضرت عامر بن فہیرہ کی معیت میں رات کی تاریکی میں رخصت ہوئے تھے۔ آج آپ   اسی شہر جلال میں اس شان سے داخل ہو رہے تھے کہ دس ہزار مسلح جاں نثار الله اكبر الله أكبر، لا إِلَّا الله کا ورد کرتے حضور کے جلو میں تھے اور تمام جبابرہ قریش لرزہ بر اندام اپنے گھروں میں دبکے ہوئے تھے۔ لیکن یہ کسی دنیاوی فاتح کی یلغار نہیں تھی۔ یہ تو سرزمین حرم میں رحمت حق کا نزول تھا۔ حضور سیاہ عمامہ باندھے اپنی اونٹنی  پر جلوہ افروز تھے۔ سر اقدس جھکا ہوا تھا۔ چشم ہائے مبارک سے آنسو رواں تھے اور زبان پاک پر سورہ فتح کی آیات تھیں۔ جب تمام مجاہدین مکہ معظمہ میں داخل ہو چکے تو آپ   نے سر اقدس کو بلند فرمایا اور شکر خداوندی بجالائے۔ کعبۃ اللہ کے دروازے پر پہنچ کر حضور اقدس  نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر آپ نے خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو کر اس کی تطہیر کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ لیکن خانہ کعبہ کے دروازے پر ایک بڑا قفل پڑا تھا۔

 حضور  نے اپنے ہم رکاب ایک صاحب کو اشارہ فرمایا کہ اس کی کنجی لے آؤ۔ وہ صاحب دوڑے دوڑے گئے ۔ اور تھوڑی دیر بعد کنجی لا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی ۔ آپ  نے خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا اور کنجی لانے والے صاحب اور چند دوسرے جاں نثاروں کے ہمراہ اس کے اندر جا کر دروازہ بند کر دیا۔ تطہیر کعبہ کے بعد آپ  باہر تشریف لائے تو کنجی لانے والے صاحب بھی آپ صلی  کے ساتھ تھے۔ حضور نے ان پر شفقت بھری نظر ڈالی اور نجی ان کے سپرد کرتے

ہوئے فرمایاجو شخص یہ کنجی تم سے چھینے گا وہ ظالم ہوگا۔یہ خوش بخت صاحب رسول جن کوسرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی کلید برداری کا اہل اور حق دار ٹھہرایا، حضرت عثمان بن طلحہ عبدری  تھے۔ 

حضرت عثمان بن طلحہ  کا تعلق قریش کی ایک معزز شاخ بنی عبدالدار سےتھا ۔

نسب نامہ یہ ہے۔

عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ عبد الله بن عبد العزی بن عثمان بن عبد الدار بن قصى بن مرہ 

 قصتی پر ا کا نسب نامہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب نامہ سے مل جا تا ہے 

   ۔ والدہ کا نام باختلاف روایت سلامہ یا سلافہ تھا۔ وہ مدینہ کی رہنے والی تھیں

اور اوس کے خاندان بنی عمر عوف سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کی شادی مکہ کے رئیس

طلحہ بن ابی طلحہ سے ہوئی ۔ اس کی صلب سے حضرت عثمان پیدا ہوئے۔

زمانہ جاہلیت میں طلحہ بن طلحہ بن ابی طلحہ خانہ کعبہ کا کلید بردار تھا۔ اس لحاظ سے  اہل مکہ میں بڑی عزت و احترام کی 

نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ افسوس کہ اس شخص کوقبولِ اسلام کی توفیق نصیب نہ ہوئی ۔ جب ۔ جب تک جیا اپنے مشرکانہ عقائد پرسختی سے قائم 

رہا اوراپنی اولاد کوبھی اسلام کی طرف راغب نہ ہونے دیا۔ حضرت عثمان  طبقا بڑے شریف النفس تھے۔ وہ زمانہ جاہلیت میں بھی اہل حق کے خلاف کسی کمینہ اور چھچھوری حرکت کے مرتکب  نہیں ہوئے۔ ۳ ابعد بعثت میں ام المومنین حضرت ام سلمہ  کی ہجرت الی المدینہ کے موقع پر انہوں نے ایسی شرافت کا ثبوت دیا کہ تاریخ میں شاید ہی ایسی مثالیں ملتی ہیں ۔ ابن اسحاق  اور حافظ ابن کثیر میں نے لکھا ہے کہ حضرت ام سلمہ  اور ان کے پہلے شوہر حضرت ابوسلمہ  دعوت حق کے آغاز ہی میں شرف اسلام سے بہرہ ور ہو گئے تھے۔ کفار کے مظالم سے تنگ آکر پہلے انہوں نے حبش کی طرف ہجرت کی۔ کچھ عرصہ وہاں گزارنے کے بعد مکہ واپس آئے اور پھر حضور  کا ایما پا کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا قصد کیا اس وقت حضرت ابوسلمہ  کے پاس صرف ایک ہی اونٹ تھا۔ اس پر انہوں نے حضرت اُم سلمہ  اور اپنے ننھے بچے سلمہ کو سوار کرایا اور خود اونٹ کی نکیل پکڑ کر پیادہ پا چل پڑے۔ تھوڑی ہی دور گئے ہوں گے کہ حضرت ام سلمہ  کے خاندان بنو مغیرہ کو پتا چل گیا۔ انہوں نے اونٹ کو گھیر لیا اور حضرت ابو سلمہ ان سے کہا کہ ہماری لڑکی تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی۔ یہ کہہ کر وہ حضرت ام سلمہ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ۔ اتنے میں حضرت ابو سلمہ  کے خاندان کے لوگ بنو عبد الاسد آپہنچے۔ انہوں نے حضرت ابو سلمہ  کے بچے سلمہ پر قبضہ کر لیا اور بنو مغیرہ سے کہا کہ اگر تم اپنی لڑکی کو ابو سلمہ  کے ساتھ نہیں جانے دیتے تو ہم اپنے قبیلے کے بچے کو تمہارے پاس نہیں چھوڑیں گے۔ حضرت ابوسلمہ ان سے کہا، تو اکیلا جہاں جی چاہے جاسکتا ہے۔ حضرت ابو سلمہ  دل پر پتھر رکھ کر اکیلے ہی عازم مدینہ ہو گئے ۔ حضرت ام سلمہ  پر شوہر اور بچے کی جدائی نے قیامت ڈھا دی وہ روزانہ علی الصباح گھر سے باہر نکلتیں اور ایک ٹیلے پر سٹھ کر گریہ وزاری کرتی رہتیں۔ پورا ایک سال اسی طرح گزر گیا ۔ ایک دن بنو مغیرہ 

کے ایک صاحب اثر اور رحم دل آدمی نے انہیں اس حال میں دیکھا تو اس کا دل پسیج گیا۔ اس نے اپنے قبیلے کو جمع کیا۔ اور کہا " یہ لڑکی ہمارا ہی خون ہے۔ ہم کب تک اس غریب کو اپنے شوہر اور بچے سے جدا رکھیں گے۔ اے بنو مغیرہ اخدا کی قسم ہمارا قبیلہ بڑا شریف اور بہادر ہے جو ظلم کو دوست نہیں رکھتا اس شخص کی تقریر سن کر دوسرے لوگوں کو بھی رحم آگیا اور انہوں نے بھی نتھے سلمہ کو اپنی ماں کے پاس بھیج دیا۔ اب حضرت ام سلمہ نے بچے کو گود میں لیا اور اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئیں۔ خود ان سے روایت ہے کہجب میں اپنے بچے کے ساتھ مکہ سے چلی تو میرے ساتھ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی بھی ساتھ نہ تھا جب میں تنعیم کے مقام پر پہنچی تو میں نے وہاں عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ عبدری کو دیکھا، انہوں نے کہا اے ابو امیہ کی بیٹی ! تو کہاں جا رہی ہے؟ میں نے کہا مدینہ اپنے شوہر کے پاس۔ انہوں نے کہا تیرے ساتھ کوئی نہیں ہے؟ میں نے کہا سوائے اللہ کے اور میرے اس بیٹے کے اور کوئی نہیں ۔ عثمان  نے کہا خدا کی قسم میں تمہیں یوں تنہا نہ جانے دوں گا۔ یہ کہ کر انہوں نے میرے اونٹ کی نکیل پکڑی اور تیز تیز چلنے لگے خدا کی قسم میں نے عرب میں عثمان سے بڑھ کر کوئی شریف آدمی نہیں دیکھا جب ہم منزل پر پہنچتے تو عثمان میرے لیے اونٹنی کو بٹھا دیتے اور خود پیچھے ہٹ جاتے جب میں اتر جاتی اور اونٹ سے پرے ہٹ جاتی تو وہ اونٹ سے کجاوہ کھولتے اسے درخت سے باندھ دیتے پھر علیحدہ ہٹ کر کسی درخت کے نیچے آرام کرتے۔ جب چلنے کا وقت آتا تو وہ اونٹ کو میرے سامنے لاتے۔ کجاوہ کہتے پھر مجھ سے پیچھے ہٹ جاتے اور کہتے سوار ہو جاؤ جب میں ٹھیک سے اونٹ پر بیٹھ جاتی تو آتے اور اوٹ ک کھیل پکڑ کر چل پڑتے۔ اس طرح  میرے ساتھ آئے۔ یہاں آنچ کر انہوں نے مجھ سے کہا کہ تیرا شو براسی بستی میں ہے تو اب بستی کے اندر چلی جا۔   یہکہ کر اسی جگہ سے مکہ معظمہ واپس چلے گئے ۔ خدا کی قسم میں نے عثمان بن طلحہ  

سے زیادہ شریف کسی کو نہیں دیکھا۔

حضرت عثمان  کے والد اور بھائی اسلام کے سخت دشمن تھے۔ چنانچہ ہجرت   کے بعد  غزوہ اُحد پیش آیا تو اس میں طلحہ بن ابی طلحہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ قریش کا علمبر دار تھا۔ لڑائی کے آغاز سے پہلے اس نے مبارزت طلب کی تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کے مقابل ہوئے اور چند لمحوں کے اندر اندر اس کو خاک و خون میں لوٹا دیا۔ طلحہ  کے قتل پر سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند  اظہار مسرت فرمایا اور تمام مسلمانوں نے بھی اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ میدان جنگ گونج اٹھا 

طلحہ کے قتل کے بعد اس کا بھائی ابو شیبہ عثمان اور تین بیٹے مسافع جلاس کلاب بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گئے ۔ حضرت عثمان کو باپ چچا اور بھائیوں کے قتل کا جو صدمہ ہوا وہ تو ہوا لیکن غزوہ اُحد کے بعد ان کا دل آہستہ آہستہ اسلام کی طرف مائل ہونے لگا۔ حتی کہ صلح حدیبیہ ( ذیقعد 4 ہجری) کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے وہ کسی وقت بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر سعادت اندوز اسلام گئے ۔ روایتوں میں ہے کہ انہوں نے فتح مکہ سے سات ماہ قبل حضرت خالد بن ولید  اور حضرت عمرو بن العاص  کےساتھ اسلام قبول کیا اور پھر ہجرت کر کے مدینہ آ 

گئے۔ چند ماہ بعد مکہ فتح ہوا تو حضرت عثمان  کو بھی اُن دس ہزار قدوسیوں میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا جو اس موقع پر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے 

ہمرکاب تھے۔ حضور علی ٹیم نے مکہ میں داخل ہو کر خانہ کعبہ کو بتوں کی آلائش سے پاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عثمان علی کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر جا کر خانہ کعبہ کی کنجی لے آئیں یہ 

 حکم اس بنا پر تھا کہ حضرت عثمان علی باپ طلحه کلید بردار کعبہ ہوا کرتا تھا۔ اس کے قتل کے بعد کنجی اس کی اہلیہ (حضرت عثمان علی کی والدہ) کی تحویل میں رہتی تھی۔ حضرت عثمان  نے گھر جا کر ماں سے کنجی طلب کی تو انہوں نے دینے سے انکار کر دیا (اس وقت تک وہ مسلمان نہیں ہوئی تھیں) مگر حضرت عثمان نے زبردستی ان سے کنجی لے لی۔  حضرت عثمان  نے کنجی لا کر حضور  کی خدمت میں پیش کر دی ۔ تظہیر کعبہ کے بعد آپ  نے کنجی حضرت عثمان کو واپس کر دی اور انہیں کلید بردار کعبہ مقرر فرمایا۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر حضرت عثمان  کی والدہ نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔

ایک روایت کے مطابق چونکہ حضرت عثمان  کی والدہ نے فوراً اسلام قبول کر لیا' اس لیے حضور ملی پیام کو خیال آیا کہ کنجی عمان  کو واپس نہ کی جائے (مبادا ان کی والدہ پھر ضد کر بیٹھیں ) 

اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّو الامْنَتِ إِلَى أَهْلِهَا

(النساء : ۵۸) 

شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے مستحقین کو واپس کر دو۔  

چنانچہ حضور نے کنجی حضرت عثمان  کو واپس دے دی جس کا یہ اثر ہوا

کہ ان کی والدہ سعادت اندوز اسلام ہوگئیں۔ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین اور طائف کے معرکوں کے بعد مدینہ منورہکی طرف مرا جرت فرمائی تو  حضرت عثمان بھی  

   آپ  کے ساتھ مدینہ واپس چلے گئے اور جب تک آفتابِ رسالت الی اللہ تعالی کی  رحمت میں غروب نہ ہوا

وہیں مقیم رہے اس دوران میں ان کی طرف سے کعبہ کی کلید برداری کے فرائض کوئی اور صاحب انجام دیتے رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد وہ مکہ آگئے اور تاحیات کلید برداری کی خدمت انجام دیتے رہے۔ حافظ ابن عبد البر نے الاستيعاب میں ان کا سالِ وفات ۴۲ ہجری لکھا ہے۔ غالباً اولاد نرینہ کوئی نہیں تھی۔ اس لیے وفات سے پہلے انہوں نے خانہ کعبہ کی کنجی اپنے چا زاد بھائی حضرت شیبہ بن عثمان کے سپرد کر دی۔ چنانچہ وہ اب تک حضرت شیبہ علی کی اولادکی تحو یل میں ہے  

رضی اللہ تعالیٰ عنہم